نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت، عدالت نے 3 دن کا استثنیٰ دے دیا

جیل سے رہائی کے بعد میاں صاحب کو ایڈجسٹ کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ خواجہ حارث

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر ستمبر 10:39

نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت، عدالت نے 3 دن کا استثنیٰ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 ستمبر 2018ء) : نیب کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جیل سے رہائی کے بعد میاں صاحب کو ایڈجسٹ ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔لیکن ٹرائل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی ہم یہاں موجود ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جس میں کہا گیا کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کے انتقال کے باعث دُکھ اور کرب میں مبتلا ہیں، انہیں ایڈجسٹ ہونے کے لیے وقت درکار ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ نوازشریف کو5 روزحاضری سے استثنیٰ دیا جائے تاکہ غم کی کیفیت سے باہر آسکیں۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ قانون غیر معمولی حالت میں حاضری سے استثنیٰ دیتا ہے۔

(جاری ہے)

نیب کورٹ کے جج ارشد ملک نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کو حاضری سے 3 دن کے لیے استثنیٰ دے دیا۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں نیب عدالت نے سزا سنا چکی ہے۔ جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف کو 11 اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 8 جب کہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا دی گئی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلے میں نوازشریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جُرمانہ بھی عائد کیا اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو ضبط کرنے کا بھی حکم دیا جب کہ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر پرکوئی جُرمانہ عائد نہیں کیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو 9 جولائی کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔ کیپٹن (ر) صفدر 74 دن اڈیالہ جیل میں قید رہے ۔ تینوں مجرموں نے سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کیں، جن کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے 19 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں مجرموں کی سزا معطل کرنے اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے تینوں قیدیوں کو 5،5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا جس کے بعد انہیں خصوصی طیارے سے لاہور لایا گیا۔ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت جاری ہے جس سے نواز شریف کو 3 روز کا استثنٰی مل گیا ہے۔