کھپت بڑھنے سے ایل این جی درآمدات میں 150 فیصد اضافہ

51کروڑ74لاکھ ڈالرکی پٹرولیم مصنوعات امپورٹ،گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں درآمدات61کروڑ29لاکھ ڈالرکی رہی تھیں

پیر ستمبر 15:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) بجلی کی پیداواراوردیگر صنعتی مقاصد کے لیے ایل این جی پر انحصار کے باعث سالانہ بنیادوں پر ایل این جی کی درآمد میں149.8فیصد اضافہ ہو گیا ہے تاہم پٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں 15.5فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔توانائی کی پیداوار کے لیے مشینری کی درآمدات میں45.5 فیصد کمی جبکہ فرٹیلائزر کی درآمدات میں 205 فیصد اور روئی کی درآمدات میں 355 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

دستاویز کے مطابق بجلی کی پید اوار اور دیگر صنعتی مقاصد کے لیے پاکستان میں ایل این جی کی درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔رواں مالی سال کے دوران اگست کے مہینے میں اگر بجلی کی پیداوار اور دیگر صنعتی مقاصد کے لیے ایل این جی کی درآمدات کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ حکومت کی جانب سے اگست 2018 تک 32 کروڑ 63 لاکھ 36 ہزار ڈالر سے زائد کی ایل این جی درآمد کی گئی ہے اگر اس کا موازنہ گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے ساتھ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 13کروڑ 5لاکھ 96ہزار ڈالر کی ایل این جی درآمدکی گئی تھی۔

(جاری ہے)

اس طرح رواں مالی سال کے اگست کے مہینے کے دوران ایل این جی کی درآمد میں 149.8 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم رواں مالی سال کے اگست کے مہینے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں کمی ریکارڈکی گئی ہے۔ رواں مالی سال اگست کے مہینے تک 51 کروڑ 74 لاکھ 83 ہزار ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کی گئی ہیں، گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات 61کروڑ 29لاکھ 32ہزار ڈالر کی تھی۔

اس طرح پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت رواں سال کے دوران اب تک 15.5 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، پٹرولیم کروڈ کی رواں سال اگست کے مہینے تک کی درآمدات 50کروڑ 86لاکھ 62ہزار ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 31کروڑ 91لاکھ 25ہزار ڈالر تھی، اس طرح رواں سال کے دوران اب تک پٹرولیم کروڈکی درآمدات میں 64.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رواں مالی سال کے دوران اب تک ایل این جی اور پٹرولیم کروڈ کی درآمدات میں اضافہ جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اگست کے ماہ تک توانائی پید اکرنے والی مشینری کی درآمدات 21کروڑ 32لاکھ 7ہزار ڈالر کی تھیں جو رواں مالی سال کے اگست کے مہینے کم ہو کر 11کروڑ 60لاکھ 19ہزار ڈالرپر آگئی ہیں اس طرح توانائی پید اکرنے والی مشینری کی درآمدات میں 45 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ٹیکسٹائل مشینری کی درآمدات جو گزشتہ مالی سال اگست کے مہینے میں 4 کروڑ 73لاکھ 63ہزار ڈالر کی تھیں وہ رواں مالی سال اگست کے مہینے تک 4کروڑ 60لاکھ 30ہزار ڈالرہوئی ہیں جس میں 2 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے، کنسٹرکشن اور مائننگ کی مشینری کی درآمدات رواں مالی سال کے دوران 2 کروڑ 98 لاکھ 57 ہزار ڈالر کی ہوئی جو گزشتہ مالی سال کے اگست کے مہینے میں 3 کروڑ 36 لاکھ 76 ہزار ڈالر تھیں۔

اس طرح تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی مشینری کی درآمدات میں بھی 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم الیکٹرکل مشینری کی درآمدات میں 8فیصد اضافہ ہوا اور رواں سال اگست کے مہینے میں 14کروڑ 69 لاکھ 35 ہزار ڈالر کی مشینری درآمدکی گئی جو گزشتہ مالی سال کے اگست کے مہینے کے دوران 13 کروڑ 52لاکھ 57ہزار ڈالر تھی۔موبائل فونز کی درآمدات میں 11فیصد اضافہ ہوا اور رواں مالی سال کے دوران 6کروڑ 76لاکھ 71ہزار ڈالر کے موبائل فون درآمدکیے گئے جو گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران 6کروڑ8لاکھ 23ہزار ڈالر کے درآمد کیے گئے تھے۔

زرعی مشینری کی درآمدات میں 17 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور رواں مالی سال کے اگست کے مہینے میں 1 کروڑ 1 لاکھ 6 ہزار ڈالر کی زرعی مشینری درآمد کی گئی جو گزشتہ مالی سال میں اسی عرصے کے دوران 1 کروڑ 22 لاکھ 42 ہزار ڈالر کی درآمدات کی گئی تھیں، تاہم مشینری کی مجموعی طور پر درآمدات میں 15فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔زراعت کے سیکٹر میں درآمدات میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف فر ٹیلائزر کی درآمدات جو گزشتہ مالی سال کے اگست کے مہینے تک 5 کروڑ 47 لاکھ 49 ہزار ڈالر تھیں وہ رواں مالی سال کے اگست میں بڑھ کر 16کروڑ75لاکھ 18ہزار ڈالر تک اضافہ ہوا ہے۔

اس طرح فرٹیلائزر کی درآمدات میں 205 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ میڈیکل مصنوعات کی درآمدات میں 30فیصد اور کیڑے مار ادویہ کی درآمدات میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح روئی کی درآمدات رواں مالی سال کے اگست کے مہینے کے دوران 1کروڑ 47 لاکھ 59 ہزار ڈالر کی ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 32 لاکھ 42 ہزار ڈالر کی تھیں۔ اس طرح روئی کی درآمدات میں 355 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم ٹیکسٹائل سیکٹر کی مجمو عی طور پر درآمدات میں 2 فیصد کمی ہوئی ہے۔