ایوان بالا نے گردشی قرضوں کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دے دی،

گردشی قرضوں کا مسئلہ مل کر حل کرنا ہوگا، بجلی چوری ختم ہونی چاہئے، ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کا اظہار خیال

منگل ستمبر 18:09

ایوان بالا نے گردشی قرضوں کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دے دی،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) ۔ ایوان بالا نے گردشی قرضوں کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دے دی۔ پیر کو ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کہا کہ گردشی قرضوں کا مسئلہ مل کر حل کرنا ہوگا، بجلی چوری ختم ہونی چاہئے۔ رپورٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ خصوصی کمیٹی برائے گردشی قرض نے عمدہ کام کیا ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو ملک میں بجلی کا شدید بحران تھا، سرکلر ڈیبٹ 500 ارب روپے تھا، یہ مسئلہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے بھی پہلے کا چلا آ رہا تھا، صنعتیں بند پڑی تھیں، مسلم لیگ (ن) نے انہیں بحال کیا، ہم نے پرانے سرکلر ڈیبٹ کو ختم کیا، ہم نے 11 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی اور اندھیروں کا خاتمہ کیا، بجلی چوری روکنے کے لئے ہم نے بہت کوششیں کیں، اب موجودہ حکومت اس سلسلے میں بہتر کام کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

(جاری ہے)

ہم توقع رکھتے ہیں کہ موجودہ حکومت بھی سرکلر ڈیبٹ ختم کرے گی ۔ اب پی ٹی آئی کو الزام تراشی نہیں کرنی چاہئے، کام کر کے دکھانا چاہئے۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ سرکلر ڈیبٹ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، ہمیں الزام تراشی میں پڑنے کی بجائے مسئلے کے حل کے لئے کام کرنا چاہئے، بلوچستان کو تین گھنٹے بجلی ملتی ہے، بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ لوگ بل نہیں دیتے، لائنیں 500 میگاواٹ سے زیادہ کا لوڈ اٹھا نہیں سکتیں، گزشتہ حکومت نے سولرائزیشن کا کام کیا، زمین سے پانی نکالنا مجبوری ہے، زراعت اسی سے چلتی ہے کیونکہ بلوچستان میں صنعتیں نہیں ہیں، بلوچستان کو بھی اسی طرح بجلی ملنی چاہئے جس طرح پنجاب کو ملتی ہے جو بھی بل ادا کرے اسے بجلی دی جائے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ گردشی قرضے پیدا کیوں اور کیسے ہوئی سندھ کے ساتھ زیادتی کی گئی، یہ نہیں ہونی چاہئے۔ سرکلر ڈیبٹ کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے، ایف آئی اے سے یہ انکوائری کرائی جا سکتی ہے، ایسی سفارشات دی جائیں کہ آئندہ یہ مسئلہ پیدا نہ ہو۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ گردشی قرضوں میں اضافے کا ذمہ دار کون ہے اور حکومت ان کے خلاف کیا کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہی ہماری توقع تھی کہ موجودہ حکومت انقلابی اقدامات کرے گی، موجودہ حکومت کو چلنے دیں گے اور وقت دیں گے اور دیکھیں گے یہ کیا اقدامات کرتی ہے، حکومت معیشت کو ٹھیک کرنے کے لئے معاشی ڈاکومنٹیشن کرے۔

کے پی کے میں 41 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے، بجلی جہاں سے پیدا ہوتی ہے وہاں کے لوگ بجلی سے محروم ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت انصاف کرے اور سب سے پہلے محروم علاقوں کو بجلی فراہم کرے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دور دراز علاقوں میں آف گرڈ چھوٹے چھوٹے یونٹ لگائے ہیں جن سے بہت سستی بجلی حاصل ہوتی ہے۔ سندھ میں سولر پاور سٹیشن لگا جس سے 24 روپے فی یونٹ بجلی بن رہی تھی ،میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا، نندی پور جیسے منصوبوں سے مہنگی بجلی پیدا ہوتی ہے، گردشی قرضوں کا بہت بڑا حجم ہے۔

سینیٹر شمیم آفریدی نے کہا کہ کنڈے ہٹا دیئے جائیں تو پوری بجلی موجود ہے، چوری ختم کرائی جائے اور بلوں کا نظام بہتر بنایا جائے۔ چیئرمین نے تحریک کی منظوری کے لئے ایوان سے رائے طلب کی، ایوان بالا نے تحریک کی منظوری دے دی۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ملک میں جمہوری ادارے کمزور ہیں، اس تحریک پر زیادہ بحث ہونی چاہئے تھی جو نہیں ہو سکی۔