نیشنل پارک میں نجی اراضی پر بھی درخت نہیں کاٹے جا سکتے ،ْ چیف جسٹس

حکومت کی جانب سے پرائیویٹ اراضی پر قبضہ ہے، جنگلات کا رقبہ 14ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے ،ْ ایڈیشنل اٹارنی جنرل جب تک نجی اراضی کو ریگولرائز نہیں کیا جائے گا مسئلہ حل نہیں ہوگا ،ْ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

بدھ ستمبر 15:03

نیشنل پارک میں نجی اراضی پر بھی درخت نہیں کاٹے جا سکتے ،ْ چیف جسٹس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 ستمبر2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نیشنل پارک میں نجی اراضی پر بھی درخت نہیں کاٹے جا سکتے، مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر درخت نہیں کاٹے جا سکتے۔مارگلہ ہلز پر درختوں کی کٹائی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آج اس کیس کو ختم کرنا ہے ،ْ رپورٹ آگئی ہے۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ حکومت کی جانب سے پرائیویٹ اراضی پر قبضہ ہے، جنگلات کا رقبہ 14ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں تو سپریم کورٹ بھی آجائے گا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انہیں جواب دیا کہ سپریم کورٹ نیشنل پارک میں نہیں آتی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس حد بندی پر کوئی اعتراض دائر نہیں کیا گیا ،ْ نیشنل پارک میں نجی اراضی بھی شامل ہے ،ْجب تک نجی اراضی کو ریگولرائز نہیں کیا جائے گا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے حکم دیا کہ نیشنل پارک میں نجی اراضی پر بھی درخت نہیں کاٹے جا سکتے، مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیردرخت نہیں کاٹے جا سکتے۔سپریم کورٹ نے سرویجنرل کی رپورٹ فریقین کو دینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی ۔