وزیراعظم کا او پی ایف میں کرپشن و جعلی ڈگری ہولڈرز کے مقدمات نیب کو بھجوانے کا حکم

قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے وزیراعظم کے احکامات کے بعد موجودہ و سابق منیجنگ ڈائریکٹرز سے متعلق 10 سال پرانا ریکارڈ اکٹھا کرنا شروع کردیا او پی ایف سے 100سے زائد سابق و موجودہ افسران کی گرفتاریوں کا امکان

جمعرات اکتوبر 22:44

وزیراعظم کا او پی ایف میں کرپشن و جعلی ڈگری ہولڈرز کے مقدمات نیب کو ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے وزارت اوورسیز کے ذیلی ادارے او پی ایف میں ہونیوالی اربوں روپے کی کرپشن ،جعلی ڈگری ہولڈرز اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف مقدمات نیب کو بھجوانے کا حکم دیدیا،قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے وزیراعظم کے احکامات کے بعد موجودہ و سابق منیجنگ ڈائریکٹرز سے متعلق 10 سال پرانا ریکارڈ اکٹھا کرنا شروع کردیا جبکہ او پی ایف سے 100سے زائد سابق و موجودہ افسران کی گرفتاریوں کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری کا امتحان شروع ہو گیا ہے ،گزشتہ روز اوورسیز پاکستانیز پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری اور وزارت اوورسیز کے سیکرٹری نے وزیراعظم عمران خان کو وزارت سمیت دیگر ذیلی اداروں سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ او پی ایف میں سابق ادوار میں بے تحاشہ کرپشن کرکے ادارے کو نقصان پہنچایا گیا اور اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی شہریوں کے پیسے کے ضائع سمیت ان کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی گئی ۔

(جاری ہے)

سیکرٹری وزارت آصف شیخ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بھی وزارت میں رہ چکے ہیں اور وہ بہتر جانتے ہیں کہ کون صحیح طریقے سے کام کررہا ہے ، اوپی ایف ایک واحد ذیلی ادارہ ہے جس میں اقرباء پروری ، کرپشن اور دیگر خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خبریں ہی نہیں بہت کچھ حقائق پر مبنی دستاویزات بھی موجود ہیں ، جعلی ڈگری ہولڈرز افسران و سٹاف سمیت سابق ادوار میں ہونیوالی کرپشن کا سپیشل آڈٹ کروا کر ان کے مقدمات نیب کو بھجوائے جائیں اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف سنگین نوعیت کے مقدمات درج کرکے فارغ کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ او پی ایف میں کرپٹ افسران نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ذوالفقاربخاری سے رابطے بڑھانا شروع کردیئے ہیں ۔دوسری جانب وزیراعظم سیکرٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ذوالفقار بخاری کو وزیراعظم کی جانب سے پہلا ٹاسک دیا گیا اور اگر وہ غیر جانبدارانہ طریقے سے اس پر پورا اترنے ہیں ان کیخلاف اپوزیشن ودیگر افراد کی ہرزہ سرائی کابھرپور انداز میں دفاع کیا جائے گا اگر وہ کرپشن ، اقربا پروی اور جعلی ڈگری ہولڈرز کے مقدمات میں اپنی طاقت اور اثرو رسوخ استعمال کرکے کسی کو رعایت دیتے ہیں تو حکومتی سطح پر انہیں دفاع نہیں کیا جائے گا۔