نیب احتساب کے نام پر تذلیل کرنے لگی

چلنے سے بھی قاصربزرگ اساتذہ کو ہتھکڑی لگانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ اکتوبر 20:57

نیب احتساب کے نام پر تذلیل کرنے لگی
لاہور(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-12 اکتوبر 2018ء) :چلنے سے بھی قاصربزرگ اساتذہ کو ہتھکڑی لگانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی،سوشل میڈیا صارفین نے نیب حکام کو تنقید کا نشانہ بنا دیا۔نیب لاہور نے سابق 5 رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو بھی گرفتار کرلیا ہے، گرفتار رجسٹرارز نے وائس چانسلر کی ملی بھگت سے 550 افراد کو بھرتی کیا، تمام بھرتیاں گریڈ 17اور اس سے اوپر کی تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران کے بعد ان کے ادوار کے 5 رجسٹرار کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ ان رجسٹرارز میں ڈاکٹر راس مسعود، ڈاکٹر امین اطہر، ڈاکٹر لیاقت ، ڈاکٹر اورنگزیب عالمگیر اورکامران زاہدشامل ہیں۔ ان تمام رجسٹرارز نے غیرقانونی بھرتیوں میں اہم کردار ادا کیا۔

(جاری ہے)

مخالفین کی جانب سے ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ گرفتار رجسٹراروں نے وائس چانسلر کی ملی بھگت سے 550 افراد کو بھرتی کیا۔

2013ء سے 2016ء تک 3 سالوں میں ہونے والی تمام بھرتیاں گریڈ 17اور اس سے اوپر کی تھیں۔اس سے قبل نیب نے سابق وی سی پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران کو حراست میں لے لیا تھا۔ان تمام ملزمان اور آج احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔
اس موقع پر نیب اہلکاروں نے جس طرح گرفتاربزرگ اساتذہ کو عدالت میں پیش کیا گیا اس نے ہمارے معاشرے کے کھوکھلے پن کو ظاہر کر دیا ہے۔

منظر عام پر آنے والے ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بزرگ اساتذہ کو ہتھکڑی لگا کر سنگین مجرموں کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔ان گرفتار ملزمان میں ایک بزرگ استاد جنہیں ملزم بنا کر پیش کیا جارہا ہے وہ اس قدر ضعیف ہیں کہ نقاہت کے باعث انکے لئیے چلنا بھی مشکل ہورہا تھا تاہم اس موقع پر بھی استاد اور انسانیت کی تذلیل کرتے ہوئے انکو دیگر ملزمان کے ساتھ ہی ہتھکڑی میں پابند کرکے پیش کیا جارہا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ان اساتذہ پر کرپشن کے الزامات ہیں بھی تو کیا ضروری تھا کہ ان اساتذہ کو اس طرح بدترین مجرموں کی طرح عدالت میں پیش کیا جاتا۔یہاں پر یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ ایک بزرگ جو چلنے سے قاصر ہے کیا اس کے فرار ہو جانے کا خدشہ تھا جو اسے ہتھکڑی لگا کر پیش کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب ملک کا قانون توڑے والے ، آئین سے بغاوت کرنے والے بیرون ملک دندناتے پھرتے ہیں۔کیا قوم کی خدمت کا یہی صلہ ہے کہ راو انوار جیسے ملزم تو وکٹری کا نشان بناتے ہوئے عدالت میں داخل ہوں اور بزرگ اساتذہ کے ساتھ اس قسم کا تحقیر آمیز سلوک کیا جائے۔منشا بم، حسین لوائی اور انور مجید جیسے لوگ عدالتوں میں سینہ چوڑا کرکے اور قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے عدالتوں میں آتے جاتے ہیں وہاں بزرگ شہریوں کو اور پھر اساتذہ کو یوں پیش کیا جانا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ انسانیت اور علم کی تذلیل ہے۔