حالیہ صوبائی بجٹ کووائٹ پیپرزمیں سرپلس دکھانے کی کوشش کی گئی ہے،بجٹ خسارے کاہے،سکندرشیرپائو

مرکزکی جانب سے صوبائی خودمختیاری میں دخل اندازی صوبوں کیساتھ ساتھ فیڈریشن کیلئے بھی نقصان دہ ہوگا،مہنگائی کے بڑھتے ہوئے لہرپرقابوپانے کیلئے اگرحکومت کی جانب سے سنجیدگی کامظاہرہ نہ کیاگیاتواپوزیشن جماعتوں کیساتھ ملکرسڑکوں پرآنے پرمجبورہونگے ،صوبائی چیئرمین کیوڈبلیو پی

بدھ اکتوبر 19:18

حالیہ صوبائی بجٹ کووائٹ پیپرزمیں سرپلس دکھانے کی کوشش کی گئی ہے،بجٹ ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2018ء) قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندرخان شیرپائونے کہاہے کہ حالیہ صوبائی بجٹ کووائٹ پیپرزمیں سرپلس دکھانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم حقیقت میں یہ ایک خسارے کابجٹ ہے ۔مرکزکی جانب سے صوبائی خودمختیاری میں دخل اندازی صوبوں کیساتھ ساتھ فیڈریشن کیلئے بھی نقصان دہ ہوگا،مہنگائی کے بڑھتے ہوئے لہرپرقابوپانے کیلئے اگرحکومت کی جانب سے سنجیدگی کامظاہرہ نہ کیاگیاتواپوزیشن جماعتوں کیساتھ ملکرسڑکوں پرآنے پرمجبورہونگے ۔

وہ پشاورپریس کلب میںپریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پرصوبائی سیکرٹری اطلاعات طارق احمدخان اورکلچرونگ کے ڈاکٹرعالم یوسفزئی بھی موجودتھے ۔سکندرخان شیرپائونے صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے حالیہ بجٹ پرتنقیدکرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت کے دعوئوں کومدنظررکھتے ہوئے یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ بجٹ روایتی طریقوں سے ہٹ کر بنائی جائے گی لیکن وہی روایتی حربے استعمال کرکے مفروضوںاورالفاظ کی ہیرپھیر پرمبنی بجٹ تیارکی جس سے انتہائی مایوسی ہوئی ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ بجٹ میں سب سے بڑاکلیم کیاگیاکہ یہ سرپلس بجٹ ہے اوروائٹ پیپرزبھی میں اسے سرپلس بجٹ دیکھانے کی کوشش کی گئی ہے حالانکہ حقیقت میں یہ خسارے کابجٹ ہے کیونکہ سرپلس بجٹ میں لون نہیں ہوتا بجٹ میں بینکوں سے پانچ ارب لون دیکھایا گیا ہے اسلئے یہ 11سے 16ارب روپے خسارے کابجٹ ہے جبکہ دوسری جانب بجٹ میں نئے ٹیکسزنہ لگانے کے جھوٹے دعوے بھی کئے گئے نئی ٹیکسزکی وجہ سے مہنگائی میںمزیداضافہ ہوگااوراس سے ان غریب عوام پرمزیدبوجھ بڑھے گاجوپہلے ہی سے مرکزی حکومت کی بجٹ کے زدمیں آچکے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ اس بات پرحیرت کااظہارکیاکہ بجٹ تقریر میں لوکل گورنمنٹ کی تعریفیں کی گئی لیکن دوسری جانب اس نظام کوختم کردیاگیاہے جوسمجھ سے بالاترہے ۔انہوںنے کہاکہ فاٹااصلاحات میں سست روی کے باعث جہاں ایک جانب قبائلی عوام کومایوسی ہوئی تودوسری جانب بجٹ میں صوبائی حکومت کی جانب سے ان علاقوں کیلئے کچھ نہیں رکھاگیاجبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے بھی قبائلی اضلاع کیلئے سوبلین روپے مختص کرنے کاذکرصرف بجٹ تقریرمیں ہے عملی طورکچھ نظرنہیں آرہا۔

انہوںنے کہاکہ ہم صوبائی خودمختیاری کے حق میںہے اورچاہتے کہ صوبوں کوان کے وسائل پراختیارملناچاہیے لیکن مرکزکی جانب سے این ایف سی ایوارڈمیں صوبوں کے حصے کوممکنہ طورپرکم اورمرکزکے حصے کوبڑھایاجارہاہے اس لئے ہم سمجھتے کہ یہ نہ صرف صوبوں بلکہ فیڈریشن کیساتھ بھی زیادتی ہوگی ۔انہوںنے پشاورمیں جاری بی آرٹی منصوبے پربھی تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ 28ارب روپے کامنصوبے کی لاگت 110ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جواس غریب صوبے کیساتھ زیادتی ہے اوراس کے نتیجے میں قومی خزانے کوبھی ایک بڑانقصان پہنچاہے کیونکہ بی آرٹی کوپورامنصوبہ قرض پرتھااورڈالرکی قدرمیں اضافہ کے باعث قرضوںمیں مزیداضافہ ہوگا۔

انہوںنے کہاکہ ملک میں حالیہ مہنگائی کی لہرنے غریب عوام کی کمرتوڑدی ہے اوراگرحکومت نے مہنگائی پرقابوپانے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات نہ کئے تواپوزیشن کیساتھ ملکراحتجاجاًسڑکوں پرآئینگے ۔