احتساب بلا تفریق اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے کسی کیخلاف انتقامی کاروائی نہ ہو ، اسد قیصر

شہباز شریف کی گرفتاری سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں نیب خود مختار ادارہ اور کام کرنے میں آزاد ہے اسپیکر سے اجازت اسمبلی کے اندر کسی رکن کی گرفتاری پر لی جاتی ہے، عہدہ بڑا نہیں ہوتا مخلوق کیلئے کام کرنا بڑا ہوتا ہے مسائل پر قومی اسمبلی میں کھل کر بحث ہونی چاہیے حکومت یا اپوزیشن کو پیار و محبت سے چلانا چاہتا ہوں ، عمران خان کی پوری ضمانت حاصل ہے۔ اسمبلی میں نعرے نہیں مسائل پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے، نجی ٹی وی کو انٹرویو

بدھ اکتوبر 22:22

احتساب بلا تفریق اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے کسی کیخلاف انتقامی کاروائی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2018ء) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ احتساب بلا تفریق اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے کسی کے خلاف انتقامی کاروائی نہ ہو ، شہباز شریف کی گرفتاری سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں نیب خود مختار ادارہ اور کام کرنے میں آزاد ہے۔ اسپیکر سے اجازت اسمبلی کے اندر کسی رکن کی گرفتاری پر لی جاتی ہے۔

عہدہ بڑا نہیں ہوتا مخلوق کیلئے کام کرنا بڑا ہوتا ہے مسائل پر قومی اسمبلی میں کھل کر بحث ہونی چاہیے حکومت یا اپوزیشن کو پیار و محبت سے چلانا چاہتا ہوں ، عمران خان کی پوری ضمانت حاصل ہے۔ اسمبلی میں نعرے نہیں مسائل پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔ نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اسد قیصر نے کہا کہ نیب نے شہباز شریف کی گرفتاری سے قبل آگاہ کیا ۔

(جاری ہے)

شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے قبل وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر پارٹی قیادت نے کہا کہ اچھا فیصلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہی اپوزیشن کے ساتھ حکمت عملی طے کرلی تھی کہ اجلاس میں کون بات کرے گا۔ شہباز شریف کی گرفتاری سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں یہ مقدمات ن لیگ کی حکومت کے دوران بنے ، نیب ایک آزاد ادارہ ہے وہ قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ نیب کسی کو گرفتار کرتا ہے تو میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ جس قانون کے مطابق اپنا کام کرسکتا ہوں احتساب بلا تفریق سب کا ہونا چاہیے کسی کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں ہونی چاہیے۔ جب اسمبلی کے اندر اگر کسی کو گرفتار کیا جاتا ہے تو سپیکر سے اجازت لی جاتی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نیب قوانین میں تبدیلی کیلئے وزارت قانون نے کام کیا ہے اور تمام سیاسی جماعتیں نیب قوانین پر اسمبلی میں بحث کیلئے متفق ہیں۔

پارلیمنٹ میں نعرے نہیں سنجیدہ بات ہونی چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ معیشت پر ایک مکمل بحث ہو اچھی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم اور اسد عمر بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے مسائل خارجہ پالیسی ، پانی اور دیگر امور پر پارلیمنٹ کے اندر سیر حاصل بحث ہو ۔ انہوںنے کہ اکہ ہمیں گورننس ، ڈیلیوری اور پر فارمنس پر توجہ دینی ہے۔ ہن نے اسمبلی بھی چلانی ہے اور حکومت بھی چلانی ہے ۔

عزت اور ذلت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ عہدہ بڑا نہین ہوتا مخلوق کی خدمت بڑا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی نیت اور اخلاس میں کوئی فرق نہیں ، عمران خان کو کام کرنے کی بے چینی ہوتی ہے اس کے اندر ایک کمٹمنٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میںاپوزیشن اورحکومت کو پیار و محبت سے چلانا چاہتا ہوں ، چاہتا ہوں عمران کی ضمانت حاصل ہے۔ میں ایک نیا پاکستان چاہتا ہوں۔