اسلام آباد ،صرف آئی ایم ایف پر انحصار کرنے کی بجائے متبادل حل پر بھی کا م کر رہے ہیں،اسدعمر

وال سٹریٹ جنرل کے انکشافات کی تحقیقات ہونی چاہیئے، اچھے فیصلے کروں یا برے لیکن کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا،وفاقی وزیر خزانہ کی نجی ٹی وی کوانٹرویو

بدھ اکتوبر 23:42

اسلام آباد ،صرف آئی ایم ایف پر انحصار کرنے کی بجائے متبادل حل پر بھی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2018ء) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کے اس دعویٰ میں کوئی حقیقت نہیں کہ پاکستانیوں کی200ارب ڈالرز سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ وال سٹریٹ جنرل کے انکشافات کی تحقیقات ہونی چاہیئے۔ اگر آئی ایم ایف نے ناقابل قبول شرائط لگائیں تو بیل آؤٹ پیکج نہیں لیں گے۔بہت سے اہم اداروںمیں گزشتہ حکومت کے لگائے ہوئے سربراہان کو ہٹا دیا گیا ہے۔

بدھ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اگر زمینی حقائق کے مطابق دیکھا جائے تو اب تک2017ء کے مقابلے میں گیس کی قیمت دو گناہ ہو چکی ہوتی ہم نے ٹیکسٹائل سیکٹر کی گیس اتنی سستی کر دی ہے کہ ہماری برآمدات دوسرے ممالک کا مقابلہ کر سکیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے انکشافات کی تحقیقات ہونی چاہیئں۔

(جاری ہے)

اداروں کو معاملے پر اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرنی چاہیئے۔

نیب یا ایف آئی اے جس سے چاہیں تحقیقات کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان چین جا رہے ہیں انکے دورہ چین کے دوران کے الیکٹرک کی فروخت کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا ہم شرائط دیکھیں گے پھر کے الیکٹرک کی فروخت کا فیصلہ کریں گے۔ کک بیکس پر ہونے والی ڈیل پی ٹی آئی کی حکومت کو قبول نہیں ہے، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا دعویٰ غلط ثابت ہوا کہ پاکستانیوں کی200ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں تاہم اس معاملے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر بہتر جواب دے سکتے ہیں۔

ہم صرف آئی ایم ایف پر انحصار کرنے کی بجائے متبادل حل پر بھی کا م کر رہے ہیں اگر آئی ایم ایف نے ناقابل قبول شرط لگائی تو بیل آؤٹ پیکج نیں لیں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ اچھے فیصلے کروں یا برے لیکن کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔