نیب نے ڈی جی شہزاد سلیم کے انٹرویو کی حمایت کردی

شریف خاندان اور خواجہ بردران نے نیب کیخلاف ایوانوں کے باہر محاذ گرم کیا ہوا ہے،اگر لیگی رہنماء ٹاک شوز میں نیب کیخلاف باتیں کرسکتے ہیں تونیب کو بھی حق ہے کہ میڈیا کے ذریعے اپنا مئوقف عوام کے سامنے پیش کریں۔اپوزیشن کی تحریک استحقاق پرترجمان نیب کا ردعمل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ نومبر 15:22

نیب نے ڈی جی شہزاد سلیم کے انٹرویو کی حمایت کردی
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 نومبر 2018ء) نیب نے ڈی جی شہزاد سلیم کے انٹرویو کی حمایت کردی ،ترجمان نیب کا کہنا ہے کہ شریف خاندان اور خواجہ بردران نے نیب کے خلاف ایوانوں کے باہر محاذ گرم کیا ہوا ہے،اگر لیگی رہنماء ٹاک شوز میں نیب کیخلاف باتیں کرسکتے ہیں تونیب کو بھی حق ہے کہ میڈیا کے ذریعے اپنا مئوقف عوام کے سامنے پیش کریں۔

نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان قومی احتساب بیورو نے اپوزیشن کی جانب سے ڈی جی نیب لاہورکے انٹرویوکیخلاف قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق پیش کرنے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اگر حمزہ شہباز اور خواجہ برادران ایوانوں کے باہر نیب کیخلاف تنقید کرسکتے ہیں۔ شہبازشریف قومی اسمبلی میں نیب کیخلاف محاز سرگرم کرسکتے ہیں۔ لیگی رہنماء ٹاک شوز میں نیب کیخلاف باتیں کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

توپھر نیب کو بھی حق حاصل ہے کہ بہتر میڈیا نمائندے کے ذریعے اپنا مئوقف عوام کے سامنے پیش کریں۔ واضح رہے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے متنازع انٹرویو کیخلاف اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کروا دی ہے۔ تحریک استحقاق کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نیب نے ارکان اسمبلی کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش کی۔ ڈی جی نیب نے اپوزیشن ارکان کا میڈیا ٹرائل کیا۔

ڈی جی نیب نے خفیہ تحقیقات اور دستاویزات میڈیا پر دکھائیں۔ ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کی منشاء سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ڈی جی نیب کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خاں  نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ نیب آئین اور قانون کےمطابق کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے باربارکہا جس پر یقین نہیں تھا کہ حکومت کا نیب پرتسلط ہوسکتا ہے۔

ڈی جی نیب کے انٹرویو سے یقین ہو گیا حکومت کا نیب پہ تسلط ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ نیب صرف سیاسی انتقام اور ن لیگ کیخلاف کارروائیاں کرنے کیلئے ہے۔ سب کا احتساب نہیں صرف عملی طور پر ن لیگ کا احتساب ہو رہا ہے۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اگر محتسب کی ڈگری ہی جعلی ہو گی تو اس کا احتساب کیسے اصلی ہو گا۔ ایچ ای سی نے کہا کہ ڈگری کو غلطی سے ویریفائی کیا۔ ڈی جی نیب لاہور کی جعلی ڈگری کا معاملہ متعلقہ پلیٹ فارم پہ اٹھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کل کے انٹرویو کے بعد نیب اثر کھو چکا ہے۔ چیئرمین نیب کو چاہیے کہ ڈی جی نیب کےانٹرویو کا فوری نوٹس لیں۔