سپریم کورٹ میں تعلیمی پروجیکٹ بی ای سی ایس کی توسیع اور استاتذہ کی ریگولرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

پیر نومبر 23:48

سپریم کورٹ میں تعلیمی پروجیکٹ بی ای سی ایس کی توسیع اور استاتذہ کی ریگولرائزیشن ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2018ء) سپریم کورٹ نے تعلیمی پروجیکٹ بی ای سی ایس کی توسیع اور استاتذہ کی ریگولرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پراجیکٹ کیسے بند ہوگیا ،ایجوکیشن سسٹم ایک دوسال کا نہیں بلکہ مستقل ہوتا ہے، پیرکوجسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرجسٹس فیصل عرب نے کہاکہ یہ کیسا تعلیمی پروجیکٹ تھا جو اب ختم کردیا گیا،سوال یہ ہے کہ کیا اب ایجوکیشن سسٹم پارٹ ٹائم ہوا کرے گا‘ فاضل جج نے کہا کہ تعلیمی نظام کے لئے مستقل ٹیچرز وسٹاف تعینات کیا جائے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ عدالت کوبتایا جائے کہ ایجوکیشن پراجیکٹ کیسے بند ہوگیا ،ایجوکیشن سسٹم ایک دوسال کا نہیں بلکہ مستقل ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران محکمہ تعلیم کے لیگل ایڈوائزر نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ 1996ء میں بنایا گیا تھا جس کے بعداس پروجیکٹ میں کبھی دو سال اور کبھی ایک سال کی توسیع ہوتی رہی ہے تاہم اب پراجیکیٹ میںتوسیع نہ ہونے کے باعث پروجیکٹ بند ہے۔

جس پرعدالت نے مزید سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ دریں اثناء سپریم کورٹ میںآئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں جے آئی ٹی کے سربراہ عرفان منگی نے رپورٹ جمع کروادی ہے۔ انہوں نے اس موقع پرذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کرکے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کرالی ہے ۔