آبادی پر کنٹرول سی آئی اے کا ایجنڈا ہے، اوریا مقبول جان

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں”میں ہوں جورزق دیتا ہوں“چیف جسٹس رزق نہیں دیتا، آپ کو پتا ہے کہ کل پاکستان میں قحط پھیل جائے گا، چیف جسٹس نے سیمینار کروا کے قوم کی اخلاقیات کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ،وزیراعظم اور چیف جسٹس کوجواب دینا پڑے گا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات دسمبر 19:26

آبادی پر کنٹرول سی آئی اے کا ایجنڈا ہے، اوریا مقبول جان
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 دسمبر 2018ء) سینئر تجزیہ کاراوریا مقبول جان نے کہا ہے کہ آبادی پر کنٹرول سی آئی اے کا ایجنڈا ہے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں ”میں ہوں جورزق دیتا ہوں“چیف جسٹس رزق نہیں دیتا، آپ کو پتا ہے کہ کل کوپاکستان میں قحط پھیل جائے گا، چیف جسٹس نے سیمینار کروا کے قوم کی اخلاقیات کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، وزیراعظم اور چیف جسٹس کوجواب دینا پڑے گا۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے آبادی پر سیمینار کروا کے قوم کی اخلاقیات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے۔چیف جسٹس کا یہ جوڈیشل عمل نہیں ہے اس لیے میں اس پر کھل کر بحیثیت پاکستانی تنقید کروں گا۔تقریب میں انہوں نے بڑے شعرسنائے، اپنی مرضی کے چار لوگوں کو بلا کرانہوں نے اعدادوشمار اکٹھے کیے ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس کہتے ہیں وہ منصوبہ بندی کے تحت عوام کو ایک محفوظ مستقبل دینا چاہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1961ء میں آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے کھانے والی گولی آئی، پھر دوسری چیزیں لائی گئیں۔آج یورپ جس کتے جیسی زندگی بسر کررہا ہے اور جہاں باپ کو دفنانے کیلئے اولاد موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی کو پتا ہے کہ ان کے ایک بیٹے کورزق ملے گا یا کسی کے گیارہ ہوجائیں گے توان کا رزق کم ہوجائے گا؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں ”میں ہوں جورزق دیتاہوں“چیف جسٹس رزق نہیں دیتا، آپ کو پتا ہے کہ کل کوپاکستان میں قحط پھیل جائے گا۔

یا آپ کو پتاہے کہ پاکستان میں آبادی بڑھ جائے گی؟ ریاست مدینہ میں کب آبادی کو کم کرنے کی مہم چلی تھی؟اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے روز میں اپنی امت کی کثرت پر خوش ہوں گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں دوبارہ سی آئی اے کے ایجنڈے پر کام ہورہا ہے۔چیف جسٹس اور عمران خان کواس کا جواب دینا ہڑے گا۔ یورپ میں 33سے زائد میٹنگز ہوئیں۔1958ء کی نیشنل سیکورٹی کونسل کی میٹنگ ہے ۔

اس میٹنگ میں طے کیا گیا کہ یہ پروگرام امریکا اور مسلم علاقوں میں شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکا میں زیادہ تعداد بوڑھوں کی ہے،آئندہ بعض نسلیں ویسے ہی ختم ہوجائیں گی۔اسی لیے سعودی عرب اور پاکستان سمیت دوسرے ممالک میں آبادی کوکنٹرول کرنے کیلئے پروگرام چل رہے ہیں۔یہ چاہتے ہیں کہ برتھ ریٹ کم کریں یعنی پیدا ہوتے بچوں کوپیدا نہ ہونے دیں۔ ان کا ایجنڈا ہے کہ ذہین لوگ پیدا ہونا ہی کم ہوجائیں۔اوریامقبول جان نے کہا کہ پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے 80واں نمبر ہے۔جہاں برتھ گروتھ ریٹ کم ہے، جبکہ وزیراعظم اور چیف جسٹس شور مچا رہے ہیں۔بچے زیادہ کرنے یا کم کا حق انفرادی سطح پر ہے ریاست کو ایجنڈا سیٹ کرنے کا حق نہیں ہے۔۔۔ویڈیو بھی دیکھیں