پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی پہلی لیبر پالیسی کا افتتاح

جمعہ دسمبر 17:10

پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی پہلی لیبر پالیسی کا افتتاح
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف حکومت کے قیام اور ابتدائی 100 دنوں کی کامیاب تکمیل کے تناظر میں محکمہ لیبرو انسانی وسائل پنجاب کی جانب سے صوبہ بھر کے ملازمین اور کارکنان کی سماجی و معاشی بہتری کو یقینی بنانے کے لئے بہت سے عملی اقدامات اٹھائے گئے جن میں پنجاب لیبر پالیسی کا اجراء ایک انقلابی قدم ہے جسکے ذریعے حکومت وقت ایک ایسی جامع، مفصل اور قابل عمل دستاویز پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد منظر عام پر لائی ہے جو کہ کاکنان کے لئے جملہ حقوق کی ادائیگی بذریعہ اطلاق لیبرقوانین کے علاوہ مستقبل قریب و بعید میں بہت سی پالیسی ترجیحات کا تعین بھی کرتی ہے اور حصول اہداف کی خاطر حکمت عملی کا اجمالی جائزہ بھی پیش کرتی ہے۔

پالیسی مذکورہ کی لانچنگ و افتتاحی تقریب انڈسٹریل ریلیشنز انسٹیٹیوٹ ٹاون شپ لاہورمیں منسٹر لیبر وہیومن ریسورس انصر مجید خان کی صدارت میں منعقدہوئی جس میں کارکنان، مالکان اور حکومتی نمائندوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں اس میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے بھی شرکت کی ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نئی پنجاب لیبر پالیسی 2018کے ذریعے مستقبل میں اٹھائے جانے والے ممکنہ اقدامات میں خاتمہ چائلڈ لیبر وداخلہ سکولز، خدمت کارڈز کے ذریعے مالی معاونت، تدارک جبری مشقت، کارکنان کے لئے کم ازکم تنخواہ میں اضافہ، بعد از ریٹائرمنٹ مفت میڈیکل، ہیلتھ کارڈز کا اجراء، تحفظ یافتہ کارکنان کی تعداد میں اضافہ، لیبر قوانین میں ترامیم، صحت وتحفظ کے لئے قانون سازی، ڈومیسٹک و گھریلو ملازمین کے حقوق کی قانون سازی، فروغ سہ فریقی مشاورت اجتماع کی آزادی اور حقوق انجمن سازی ، صنعتی عمل میں خواتین کی بھرپور شرکت، خاتمہ جنسی تفریق و ہراسانی، مزید لیبر کالونیوں کا قیام ، شادی گرانٹ، فوتگی گرانٹ اور ٹیلنٹ سکالرشپ جیسی ویلفئیر گرانٹس کی بروقت ادائیگی اور برآمدات میں اضافہ کے لئے جی ایس پی پلس سکیم کے تحت حاصل شدہ ترجیحی کوٹہ کا تحفظ بذریعہ موثر اطلاق متعلقہ آٹھ بنیادی لیبر کنونشنز وغیرہ شامل ہیں۔

جملہ اہداف کا تعین بعد از سیرحاصل سہ فریقی مشاورت متفقہ انداز میں کیا گیا۔تقریب سے وزیر محنت انصر مجید خان،سیکرٹری لیبرسارہ اسلم،آئی ایل اوکے پاکستان میں نمائندے اور دیگر شرکاء نے خطاب کیا۔