مفتیان اعظم کی عالمی کانفرنس میں مختلف اسلامی ممالک کے مفتیان کی بڑی تعداد میں شرکت

اسلام اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے،مفتیان اعظم کسی کو حق نہیں وہ اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی مسلمان کو کافر قرار دے ،امت مسلمہ کا عظیم تر اتحاد اختلاف رائے کے احترام میں پوشیدہ ہے،اعلامیہ

جمعرات دسمبر 19:13

جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) مسلمان ممالک کے مفتیان اعظم نے دنیا بھر کے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات میں رواداری، تحمل اور اسلامی اخلاقیات سے کام لیتے ہوئے آزادانہ مکالمہ کو فروغ دیں، تنوع امت مسلمہ کی خوبصورتی ہے، کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی مسلمان کو کافر قرار دے ،امت مسلمہ کا عظیم تر اتحاد اختلاف رائے کے احترام میں پوشیدہ ہے۔

یہ اعلامیہ اسلامی اتحاد کو فرقہ واریت اور خارجیت کی وجہ سے درپیش خطرات کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر جاری کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام سناتے ہوئے گورنر مکہ اور مشیر خادم الحرمین شہزادہ خالد الفیصل نے کہا کہ اسلامی اتحاد کو فرقہ واریت اور خارجیت کی وجہ سے درپیش خطرات کا حل نکالنے کے لئے اسلامی دنیا کے اتنے بڑے بڑے اہل علم کا اجتماع نہایت خوش آئند ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ امت مسلمہ اپنے علماء اور مفتیان کرام کی رہنمائی میں اختلافات پر مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے اسلامی اتحاد کی راہ ہموار کریں گے۔

(جاری ہے)

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل شیخ نے کہا کہ سیرت النبی کے مطابق تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔ کسی کالے کو گورے اور عرب کو عجم پر کوئی امتیاز حاصل نہیں، تمام مسلمان برابر ہیں، لہٰذا مسلمان کو کافر قرار دینے کی روش ختم ہونی چاہیے۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے کہا کہ اسلامی ممالک کی حکومتوں اور غیر سرکاری تنظیموں نے فرقہ واریت اور خارجیت کے موضوع پر اس کانفرنس کو جو پذیرائی بخشی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالم اسلام فرقہ وارانہ تعصبات کے خاتمہ اور صحت مند مباحث کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

متحدہ عرب امارات کے کونسل برائے شرعی فتاویٰ اور مسلم معاشروں میں فروغ امن فورم کے سربراہ شیخ عبداللہ بن بیہ نے کہا کہ اسلامی اتحاد نہ صرف ایک دینی تقاضا ہے بلکہ اس میں مسلمانوں کا باہمی مفاد اور دنیاوی فواید بھی ہیں، انسانوں کو مختلف رنگ اور خیالات کے ساتھ پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے اور ہمیں ان اختلافات کو تحمل کے ذریعے امت کی خوبصورتی بنانا ہوگا. انہوں نے کہا کہ اگر آپس میں کوئی اختلاف ہے تو یہ سیکھنے کا ذریعہ ہے نہ کہ لڑائی کا سبب۔

اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے ہونے والی ہر کوشش مبارک ہے۔ مسلمان مجموعی طور پر ایک امت ہے۔ اس حقیقت سے انکار درست نہیں کہ مسلمانوں میں بہت سے مکاتب فکر اور فرقے موجود ہیں۔ ہر فرقے کو اپنی سوچ کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق ہے اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہم سب کا فرض ہے۔

مفتی اعظم مصر ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ میں مسلم علماء اور سکالرز سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اختلاف کی اجازت بھی دیں، تحمل کی تعلیم بھی دیں اور کسی کو اختلاف کی بنیاد پر بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کا موقع نہ دیں۔الجزائر کے سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر ابو عبداللہ نے کہا کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہے۔

اس کے باوجود کئی اسلامی ممالک میں غربت اور بدامنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کہ ہم میں اتحاد نہیں۔ جب مسلمان باہمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ احترام سے رہنا شروع کریں گے تو سرمایہ دارانہ قوتوں کو ہمارے وسائل کے استحصال کا مزید موقع نہیں ملے گا۔مفتی اعظم لبنان ڈاکٹر عبد اللطیف فایز دریان نے کہا کہ فرقہ پسندی اور بے جا فتویٰ بازی نے اسلامی اتحاد کو بہت نقصان پہنچایا ہے، وقت آگیا ہے کہ حکم قرآنی کے مطابق کچھ لوگ اٹھیں، درست کو درست اور غلط کو غلط کہیں اور مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔

کانفرنس میں تمام اسلامی ممالک کے علاوہ بھارت، سری لنکا، وسط ایشیا، یورپ اور امریکہ سے آئے ہوئے مندوبین شرکت کر ینگے ۔شرکاء کانفرنس نے اسلامی اتحاد کو درپیش خطرات کے موضوع پر ایک بھرپور اجتماع منعقد کرنے پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ان کی حکومت کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ مسلم علماء باہمی احترام پر باہمی اختلافات کو ترجیح دینے کی روش کی حوصلہ شکنی کے لئے اپنا کردار زیادہ بہتر طریقے سے ادا کریں گے۔