ایرانی عہدیداروں کی آل اولاد کوامریکا سے بے دخل کرنے پرغور

امریکا میں زیرتعلیم ان ایرانی طلباء کو ملک سے بے دخل کرنے پر غورکیا جا رہا ہے جو ایرانی عہداروں کے بیٹے یا انکے قریب رشتہ دار ہیں ایرانی امریکا کو شیطان اکبر قرار دیتا ہے اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں مگر ایرانیوں کے بچے امریکا میں پڑھنے آتے ہیں

جمعرات دسمبر 22:16

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 دسمبر2018ء) ایران کے لیے امریکا کے خصوصی مندوب برین ہک نے کہا ہے کہ امریکا میں زیرتعلیم ان ایرانی طلباء کو ملک سے بے دخل کرنے پر غورکیا جا رہا ہے جو ایرانی عہداروں کے بیٹے یا ان کے قریب رشتہ دار ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی ایلچی کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں امریکا میں ایک نئی مہم سامنے آئی تھی جس میں ایرانی عہدیداروں کے امریکا میںمقیم بیٹوں اور بیٹیوںکو بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کی فارسی ویب سائیٹ پر شہریوں کی جانب سے ایرانی عہدیداروں کے بیٹوں کو بے دخل کیے جانے پر سوالوں کے جواب دیتے ہوئے برین ہک نے کہا کہ حکومت ایسے لوگوں کے اقارب کو امریکا سے بے دخل کرنے پرغور کررہی ہے جو ایران میں بیٹھ کر امریکا مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔

(جاری ہے)

مگر وہ پڑھائی کے لیے اپنے بچوں کو امریکا بھیجتے ہیں۔ ایرانی امریکا کو شیطان اکبر قرار دیتا ہے مگر ایرانیوں کے بچے امریکا ہی میں پڑھنے آتے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں موجود ایرانی عہدیداروں کے بیٹوں اور خاندان کے دیگر افراد کو بے دخل کرے۔امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ امریکا کے کئی موثر خاندانوں اور شخصیات نے واشنگٹن سے ایرانی عہدیداروں کے بیٹوں اور دیگر افراد کو ملک سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایران نے ہمارے کئی شہریوں کو جیلوں میںڈال رکھا ہے اور دوسری طرف ہم ان کے بیٹوں اور آل اولاد کے نخرے اٹھا رہے ہیں۔ اگر ایران ہمارے شہریوںکے ساتھ بدسلوک کا مرتکب ہے تو ہمیں بھی ایرانیوں کے قریبی رشتہ داروں اوران کے بیٹوں کو ملک سے نکال باہر کرنا چاہیے۔ٹی وی رپورٹ کے مطابق امریکیوں نے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عہدیداروں کے بیٹوں کے حوالے سے پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اورکہا کہ ہم نے ایرانیوں کے بیٹوں کو نہ صرف تعلیم بلکہ اپنے ہاں روزگار کی بھی سہولیات دیں مگر اس کے جواب میں ایرانی رجیم نے ہمیں کیا دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی جیلوں میں قید امریکیوں کے اہل خانہ حکومت پر سخت برہم ہیں۔ انہوں نے الزام عاید کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کے بیٹوں کی رہائی کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کرسکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرنپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بن کر ان کے خاندان کے افراد کو ایرانی جیلوں سے رہائی دلائیں گے مگرایسانہیں کیا جاسکا۔صحافتی ذرائع کے مطابق تقریبا 4 امریکی اس وقت ایران کی جیلوں میں مختلف الزامات کے تحت قید ہیں۔

ان میں سب سے خطرناک الزام جاسوسی کا عاید کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے مبصرین کا کہن اہے کہ ایرانی عقوبت خانوں میں قید امریکیوں کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔امریکیوںنے ایرنی عہدیداروں کیاقارب کے ویزے منسوخ کردینے چاہئیں تاکہ چالیس سال سے ایران میں قید ان کے افراد کی رہائی کے لیے تہران پر دبائو ڈالا جاسکے۔ایران میں قید امریکیوں کے اہل خانہ نے حال ہی میں کانگریس کے ارکان کو بھی شکایت کی ہے۔ انہوں نے امریکا میں مقیم ایرانی عہدیداروں کے بیٹوں کی تفصیلات بھی فراہم کیں اور کہا کہ ان میں سے بیشتر ایرانی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی اولاد ہیں۔ ان میں نائب صدر اور ایران کی ماحاحولیاتی کمیٹی کی چیئرپرسن کا بیٹا بھی شامل ہے۔