سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں اہم حکم دے دیا

سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں پاک فوج کے ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر فروری 11:31

سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں اہم حکم دے دیا
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-11 فروری 2019ء) : سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں پاک فوج کے ملوث افسران کے خلاف 4 ہفتے میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی اور عدالت نے 4 ہفتے کے اندر پاک فوج کے ملوث افسران کے خلاف انکوائری مکمل کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے رپورٹ کا جائزہ وزارت دفاع کے جواب کے ساتھ لیا جائے گا اور جائزہ لیں گے کہ عدالتی حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔سماعت کے دوران جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ فوجی افسران کے خلاف وزارت دفاع نے کورٹ مارشل کے لیے کاروائی کیوں شروع نہیں کی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد معاملہ آگے چلے گا۔

(جاری ہے)

فراڈ ہو یا قومی خزانے کو نقصان پہنچے تو کسی بھی وقت کورٹ مارشل ہو سکتا ہے۔جسٹس اعجاز الحسن نے اس موقع پر کہا کہ اصغر خان کیس میں 28 سال پہلے 184کروڑ روپے کی رقم استعمال ہوئی۔بنچ کے سربراہ گلزار احمد نے استفسار کیا کہ بانی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم کو بھی پیسے ملے تھے پر کیس میں ان کا نام سامنے آیا نہ ہی ایف آئی اے رپورٹ میں۔اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں بانی ایم کیو ایم کا نام تھا۔

وہ  پاکستان میں نہیں ہیں اس حوالے سے برطانوی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بانی ایم کیو ایم اور چند دیگر ملزمان کی حوالگی کے لیے بات چیت جاری ہے، بہت جلد پیش رفت متوقع ہے۔بنچ کے سربراہ نے یہ بھی ریمارکس دئیے کہ ایسا لگتا ہے ایف آئی اے اس کیس سے ہاتھ اٹھانا چاہتی ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اصغر خان کیس میں وزارت دفاع کی رپورٹس آنے کے بعد مشترکہ رپورٹس کا جائزہ لے کر کوئی حکم جاری کریں گے۔