’2011میں جنرل پاشا نے مجھے بلا کر کہا کہ پاکستان اور پارلیمانی نظام ساتھ نہیں چل سکتے‘ حامد میر

میرے ساتھ دینے سے انکار کے بعد دھمکیوں اور الزامات کا سلسہ شروع ہو گیا،سینئیر صحافی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ پیر اپریل 21:17

’2011میں جنرل پاشا نے مجھے بلا کر کہا کہ پاکستان اور پارلیمانی نظام ساتھ ..
کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15اپریل2019ء) سینئیر صحافی حامد میر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں انکشاف کیا ہے کہ 2011 میں اس وقت کے آئی ایس آئی چیف’ جنرل پاشا نے مجھے بلا کر کہا کہ پاکستان اور پارلیمانی نظام ساتھ نہیں چل سکتے اور آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں تو میں نے کہا کہ اب کسی نئے آئین پر اتفاقِ رائے بہت مشکل ہے آپ اس معاملے میں نہ الجھیں تو اگلے دن سے دھمکیاں اور الزامات شروع ہو گئے جو آج تک جاری ہیں‘۔

حامد میر نے اس سے پہلے ایک ٹویٹ کی تھی جس میں انہوں نے ایک کتاب ’مادرِ ملت فاطمہ جناح اور پاکستان‘کی تصویر شئیر کرتے ہوئے اس کتاب سے ایک اقتباس شئیر کیا کہ ’ فاطمہ جناح نے فرمایا کہ ’چین اور بھارت میں لڑائی ہوئی توایوب خان نے پاکستان کی طرف سے بھارت کو مشترکہ دفاع کی پیشکش کر دی
 لیکن پنڈت نہرو راضی نہ ہوا جس پر فاطمہ جناح نے کہا کہ نہرو نے انکار کر دیا ورنہ یہ تو ہماری آزادی کا سودا کر چکے تھے‘۔

(جاری ہے)

اس ٹویٹ کے جواب میں سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے لکھا کہ ’میر صاحب اللہ خوش رکھے تاریخ کے اوراق سے نئی نسل کو روشناس کرا رہیں،ساتھ جو نسل اپنا ماضی بھلا چکی ہے اسکی بھی یاد تازہ ہو رہی ہے‘۔
تو اس ٹویٹ کے جواب میں انہوں نے اپنی 2011 کی یاد تازہ کرتے ہوئے میجر جنرل پاشا کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ جنرل پاشا نے انہیں بلا کر کہا کہ پاکستان اور پارلیمانی نظام ساتھ نہیں چل سکتے اور یہ کہ میں ان کے ساتھ تعاون کروں تو میں نے کہا کہ اب کسی نئے آئین پر اتفاقِ رائے بہت مشکل ہے آپ اس معاملے میں نہ الجھیں ، حامد میر نے مزید کہا کہ اس واقعے کے اگلے دن سے دھمکیاں اور الزامات شروع ہو گئے جو آج تک جاری ہیں۔