نیب رضاکارانہ رقم واپسی کیس میں عدالتی اور انتظامی اختیارات کی تقسیم کرنا ہیں، جسٹس عظمت سعید شیخ

آ رٹیکل 175 کی وضاحت کی ضرورت ہے ،پہلے کئے گئے فیصلوں کا الگ سے جائزہ لیں گے، ریمارکس

جمعرات اپریل 14:34

نیب رضاکارانہ رقم واپسی کیس میں عدالتی اور انتظامی اختیارات کی تقسیم ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2019ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب رضاکارانہ رقم واپسی کیس میں کہا ہے کہ کیس میں عدالتی اور انتظامی اختیارات کی تقسیم کرنا ہیں، آ رٹیکل 175 کی وضاحت کی ضرورت ہے ،پہلے کئے گئے فیصلوں کا الگ سے جائزہ لیں گے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں نیب رضاکارانہ رقم واپسی کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

وکیل افتخار گیلانی نے کہاکہ کیس طویل چلے گا شاید سارا دن چلے ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ کیس میں چند ایک ہی معاملاتِ ہیں ،ایک ایشو یہ ہے کہ پرانے فیصلوں کو چھیڑنا ہے یا نہیں ۔انہوںنے کہاکہ دوسرا ایشو یہ ہے کہ اگر رقم واپسی ہو گی تو طریقہ کار کیا ہو گا ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ تیسرا ایشو یہ ہے کہ اگر پیسے واپس کرنے ولا سرکاری ملازم ہے تو طریقہ کار کیا ہو گا ۔

(جاری ہے)

سپیشل پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے کہاکہ کچھ ملزمان نے رقم کی صرف پہلی قسط دی باقی عدالتی حکم کے بعد رک گئیں ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ اس کیس میں تقسیم اختیارات کا سوال ہے ،کیس میں عدالتی اور انتظامی اختیارات کی تقسیم کرنا ہیں ۔وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ قوانین کا جائزہ بھی لینا ہو گا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ آ رٹیکل 175 کی وضاحت کی ضرورت ہے ،پہلے کئے گئے فیصلوں کا الگ سے جائزہ لیں گے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ ایسی وی آ ر کا تصور صرف ہمارے ملک میں ہے ،دیگر ممالک میں رقم واپسی کے ساتھ سزا بھی ساتھ ملتی ہے ۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ دیگر ممالک میں رقم رضاکارانہ واپس کرنے کر سزا میں کمی کر دی جاتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہاں تو نیب خط لکھ لکھ کر وی آر کی آفر کرتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ وی آ ر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی ملزم خود سے رقم واپس کرنے کی آ فر کرے ۔بعد ازاں عدالت نے التوا کی درخواست پر کیس کی مزید سماعت مئی کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ۔