کوئٹہ،شب برأت بے حد اًہم رات ہے، کسی صورت اسے غفلت میں نہ گزارا جائے، علامہ محمد الیاس عطار قادری

شبِ برأت جہنًّم کی آگ سے برأت یعنی چھٹکارا پانے کی رات ہے، مگرصد افسوس! مسلمانوں کی ایک تعداد آگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے اپنے لئے آگ یعنی آتشبازِی کاسامان خریدتی ہے، امیراہل سنت

جمعہ اپریل 22:36

کوئٹہ،شب برأت بے حد اًہم رات ہے، کسی صورت اسے غفلت میں نہ گزارا جائے، ..
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 19 اپریل2019ء) امیراہل سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ ماہ شعبان المعظم کی فضلیت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے اسے’’ میرا مہینہ ،، فرمایا۔ سرور کونین ﷺ ماہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا پسند فرماتے۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ پندرہ شعبان المعظم کی رات کتنی نازٴْک ہی! نہ جانے کس کی قسمت میں کیا لکھ دیا جائی! بعض اوقات بندہ غفلت میں پڑا رًہ جاتا ہے اور اٴْس کے بارے میں کچھ کا کچھ ہوچکا ہوتا ہے ،شب برأت بے حد اًہم رات ہے، کسی صورت اسے غفلت میں نہ گزارا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے شعبان المعظم کی فضلیت پر اپنے ایک تحریری بیان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

امیر اہل سنت نے کہا کہ شبِ برأت جہنًّم کی آگ سے برأت یعنی چھٹکارا پانے کی رات ہے، مگرصد افسوس! مسلمانوں کی ایک تعداد آگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے خودپیسے خرچ کرکے اپنے لئے آگ یعنی آتشبازِی کاسامان خریدتی اور خوب پٹاخے وغیرہ چھوڑ کر اِس مقًدّس رات کا تقدّٴْس پامال کرتی ہے۔

امیر اہل سنت نے کہا کہ شبِ برأت میں آتشبازی کی ناپاک رسم اب مسلمانوں کے اندر زور پکڑتی جارہی ہے اورمسلمانوں کالاکھوں روپیہ سالانہ اس میں برباد ہو جاتا ہے اور ہر سال خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ اِتنے گھرآتًشبازی سے جًل گئے اور اتنے آدمی جل کرمر گئے۔ اس میں جان کا خطرہ، مال کی بربادی اورمکانوں میں آگ لگنے کا اندیشہ ہے۔(نیز)اپنے مال میں اپنے ہاتھ سے آگ لگانا اور پھر خدا تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال سر پر ڈالنا ہے۔

خدا عزوجل کیلئے اس بیہودہ اور حرام کام سے بچو،اپنے بچّوں اورقرابت داروں کو روکو۔انہوں نے کہا کہ کچھ بدنصیب ایسے بھی ہیں جن پر شب برأت یعنی چھٹکارا پانے کی رات بھی نہ بخشے جانے کی وًعید ہے جن میں شراب کا عادی ،ماں باپ کا نافرمان،زِناکا عادی،قطع تعلق کرنے والا،تصویر بنانے والا اور،چغل خور اِسی طرح کاہن ، جادوگر، تکبر کیساتھ پاجامہ یا تہبندٹخنوں کے نیچے لٹکانے والے اور کسی مسلمان سے بلا اجازت شرعی بغض و کینہ رکھنے والے پر بھی اِس رات مغفِرت کی سعادت سے محرومی کی وعید ہے، چنانچہ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ متذکرہ(یعنی بیان کردہ) گناہوں میں سے اگر معاذ اللہ کسی گناہ میں ملوث ہوں تو وہ بالخصوص اٴْس گناہ سے اور بالعموم ہر گناہ سے شب برأت کے آنے سے پہلے بلکہ آج اور ابھی سچی توبہ کرلیں،اور اگربندوںکی حق تلفیاں کی ہیں توتوبہ کے ساتھ ساتھ ان کی مٴْعافی تلافی کرلی جائے۔

متعلقہ عنوان :