میرے خلاف نیب کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا ،مجھ پرالزام بے بنیاد ہے ،بابر اعوان

ہم کس طرح ریاست کے مکمل اختیارات تھوڑی سی رقم کیلئے پرائیویٹ فرم کو دے سکتے تھے، میں اس وقت وزیر قانو ن نہیں تھا ہوتا تو بھی حمایت نہ دیتا ،جب پہلی سمری وزیراعظم ہاؤس گئی تب بھی میں وزیر نہیں تھا اور آخری سمری بھیجتے وقت بھی میں وزیر نہیں تھا،دلائل دیتے ،بابر اعوان نے قانونی رائے لینے کیلئے لکھا گیا خط عدالت میں پڑھ کر سنایا

منگل اپریل 14:53

میرے خلاف نیب کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا ،مجھ پرالزام بے بنیاد ہے ،بابر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2019ء) احتساب عدالت میں نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیری ریفرنس میں دلائل دیتے ہوئے بابر اعوان نے کہاہے کہ میرے خلاف نیب کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا ،مجھ پرالزام بے بنیاد ہے ،ہم کس طرح ریاست کے مکمل اختیارات تھوڑی سی رقم کیلئے پرائیویٹ فرم کو دے سکتے تھے، میں اس وقت وزیر قانو ن نہیں تھا ہوتا تو بھی حمایت نہ دیتا ،جب پہلی سمری وزیراعظم ہاؤس گئی تب بھی میں وزیر نہیں تھا اور آخری سمری بھیجتے وقت بھی میں وزیر نہیں تھا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر ی ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک نے کی ۔دور ان سماعت شریک ملزمان میں بابر اعوان، شمائلہ محمود، ریاض کیانی کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔

(جاری ہے)

بابر اعوان نے اپنی بریت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہاکہ مجھ پر الزام لگایا گیا ہے کہ میں نندی پور پاور پروجیکٹ میں تاخیر کی۔ بابر اعوان نے کہاکہ نیب نے میرے خلاف کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کئے ،نیب نے مجھ پر بے بنیاد الزام لگایا ہے۔

بابر اعوان نے قانونی رائے لینے کیلئے لکھا گیا خط عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ انہوںنے کہاکہ میں عدالت کو بتاتا ہوں کہ وزارت قانون سے اجازت کیا مانگی گئی انہوںنے کہاکہ وزارت قانون سے مکمل اختیارات بیرون ملک کی پرائیویٹ فرم کو دینے کی اجازت مانگی گئی،ہم کس طرح ریاست کے مکمل اختیارات تھوڑی سی رقم کیلئے پرائیویٹ فرم کو دے سکتے تھے، میں تب وزیر قانون نہیں تھا اگر ہوتا تو بھی اس طرح کی سمری اپروو ل نہ کرتا،انہوں نے کہاکہ کہتے ہیں وزارت قانون نے جواب نہیں دیا، وزارت قانون نے ہر بار جواب دیا۔

انہوںنے کہاکہ اپروول سیکشن افسر دیتا ہے، وزیر کبھی بھی اپروول نہیں دیتا۔بابر اعوان نے کہاکہ میرے اوپر لگایا گیا یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ انہوںنے کہاکہ لاہور ایئرپورٹ ریکوڈک کی کان کی ساورن گارنٹی میں پانچ بار لکھ کر دیا ہوا ہے۔بابر اعوان نے کہاکہ صدر ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس اور سپریم کورٹ بھیجتے ہیں باقی تمام ہاؤسز ہم نے لکھ کر دئیے ہوئے ہیں۔

بابر اعوان نے کہاکہ 2013 میں نندی پور کمیشن بنا جس میں مجھے طلب ہی نہیں کیا گیا،اس کے بعد چار سال تک خاموشی رہی۔بابر اعوان نے کہاکہ جونہی کابینہ کا اعلان ہوا اچانک سے یہ معاملہ اٹھا دیا گیا، جب میں وزیر قانون تھا تو نندی پور پراجیکٹ کی فائل ایک ہی بار میرے پاس آئی۔انہوںنے کہاکہ وزارت نے دس دن کے اندر کارروائی مکمل کر کے فائل میرے پاس بھیج دی۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے رائے تو دے دی جو عدالت کے سامنے پڑھ کر سنا چکا ہوں۔انہوںنے کہاکہ اب کسی کو کیا رائے چاہیے تھی وہ اب میں نہیں جانتا۔بابر اعوان نے کہاکہ 2010 میں فائل منسٹر کے پاس گیا، جب میں وزیر تھا۔بابر اعوان نے کہاکہ دس دنوں کی پراسسز کے بعد منسٹر کے پاس نوٹیفکیشن آیا۔انہوںنے کہاکہ گواہ کے مطابق ریفرنگ منسٹری نے کوئی سمری نہیں بھیجی،ایک سمری 2009 سے پہلے کی ہے جبکہ چار سمریاں میرے استعفیٰ کی بعد کی ہیں۔

انہوںنے کہاکہ سمری جب جاتی ہے، تو کابینہ منظوری دیتی ہے، مسترد یا واپس کردیتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ 2009 میں کوئی سمری مسترد نہیں ہوئی جبکہ واپس کردی گئی۔انہوںنے کہاکہ سمری واپس کرنے کے بعد سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد سمری واپس آتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ سمری 2011 میں وزیراعظم ہاؤس بھیجی گئی۔انہوںنے کہاکہ جب پہلی سمری وزیراعظم ہاؤس گئی تب بھی میں وزیر نہیں تھا اور آخری سمری بھیجتے وقت بھی میں وزیر نہیں تھا۔

بابر اعوان نے کہاکہ میں نام نہیں لینا چاہتا، مگر پتہ ہے کہ کس نے سمری بھیجی ہیں، کس پر کوئی الزام ہی نہیں کہ کسی کا غلط ارادہ تھا۔ بابر اعوان نے کہاکہ جو گواہ باقی ہیں وہ کہتے ہیں میں تو گیا ہی نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق زبانی بیان جھوٹ بول سکتا ہے، کاغذی دستاویزات نہیں۔نیب پراسیکیوٹر عثمان مرزا نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ اس سے قبل بھی بریت کی درخواست دائر ہوئی، دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔

پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ صرف دو تین چیزوں کے علاوہ بابر اعوان نے وہی باتیں دوبارہ دوہرا دی ہیں۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہاکہ تب بھی کہا تھا کہ جب فیصلہ محفوظ تھا تو فیصلہ سناتے، نمٹاتے نہیں۔انہوںنے کہاکہ اب وہی ہوا وہی بریت کی درخواست ایک بار پھر آ گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ ملزم نے یہ بتانا تھا کہ سمری اپروول کیوں نہیں ہوئی نہ کہ چارج شیٹ پڑھ کر سنانی تھی۔

انہوںنے کہاکہ ابھی تو پراسیکیوشن اپنے گواہ عدالت کے سامنے پیش کر رہی ہے، سرکلر موجود ہے کہ تمام سمریوں کا فائنل اپروول وزیر نے دینا ہے۔انہوںنے کہاکہ اس وقت کے وزیر وزیر پانی و بجلی کہتے ہیں کہ میں ذاتی طور پر بابر اعوان سے ملا۔انہوںنے کہاکہ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے بابر اعوان سے ایک سے زیادہ میٹنگز ہوئیں۔انہوںنے کہاکہ وزیر پانی و بجلی نے بابر اعوان سے کہا کہ اس معاملے کا کوئی حل نکالیں تو انہوں نے کہا میرے علم میں نہیں۔

انہوںنے کہاکہ وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ سیکرٹری قانون سے معلومات لے کر اس مسئلے کو حل کریں۔بابر اعوان نے کہاکہ اس کیس میں 265 کے بیان پر صرف نیب پراسیکیوٹر کو نوٹس کیا جائے۔نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ مزید کمنٹس کیلئے وقت دیا جائے۔بابر اعوان نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ کمنٹس سڑک پر ہی کرتے ہیں۔نایب پراسیکیوٹر نے کہاکہ مزید دلائل دینا چاہونگا۔نیب پراسیکیوٹر نے آئی او کی غیر موجودگی کی وجہ سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کی استدعا منظور کرنے ہوئے کیس کی سماعت 26اپریل تک ملتوی کردی۔