فلم ’’مولا جٹ ‘‘کا ٹائٹل، ڈائیلاگ، کریکٹر اور نام استعمال کرنے کیخلاف درخواست پر فریقین کے وکلاء 30اپریل کو طلب

مولا جٹ کے کریکٹرز اور ڈائیلاگ استعمال نہیں کیے، عدالت میں غلط بیانی پر سرور بھٹی کو جرمانہ کیا جائے ‘پروڈیوسر عمارہ حکمت کا جواب

جمعرات اپریل 14:34

فلم ’’مولا جٹ ‘‘کا ٹائٹل، ڈائیلاگ، کریکٹر اور نام استعمال کرنے کیخلاف ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے فلم ’’مولا جٹ ‘‘کا ٹائٹل، ڈائیلاگ، کریکٹر اور نام استعمال کرنے کیخلاف درخواست پر فریقین کے وکلاء کو دلائل کے لئے 30اپریل کو طلب کر لیا۔ ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس امین الدین خان نے پروڈیوسر محمد سرور بھٹی کی درخواست پر سماعت کی۔سرور بھٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن مسعود عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بلال لاشاری نے غیر قانونی طور پر فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ ‘‘بنائی ہے،فلم مولاجٹ کے ٹائٹل، کریکٹر اور ڈائیلاگ کو استعمال کیا گیا ہی جبکہ مولا جٹ فلم کے تمام کاپی رائٹس اور ٹریڈ مارک ان کے پاس ہے، بغیر اجازت مولا جٹ فلم کا ٹائٹل، ڈائیلاگ اور کریکٹر استعمال کیے جارہے ہیں، مولاجٹ فلم کا ٹائٹل یا اس سے ملتا جلتا ٹائٹل استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

(جاری ہے)

لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ فلم کو غیر قانونی طور پر بنانے، نمائش کرنے اور سنسر کرنے پر کارروائی کی جائے اور عدالت اپنے فیصلے تک فلم کی ریلز پر پابندی عائد کرے۔فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ ‘‘کی پروڈیوسر عمارہ حکمت نے عدالت میں پیش ہو کر سات صفحات پر مشتمل جواب جمع کرا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرور بھٹی نے الزامات لگائے اور عدالت میں جھوٹ بولا ہے،مولا جٹ کے کریکٹرز اور ڈائیلاگ استعمال نہیں کیے، عدالت میں غلط بیانی پر سرور بھٹی کو جرمانہ کیا جائے اور لاہور ہائیکورٹ سرور بھٹی کی درخواست مسترد کرے۔

مولا جٹ کے پروڈیوسر سرور بھٹی کی درخواست ناقابل سماعت ہے۔وفاقی حکومت کے وکیل نے سنسرشپ بورڈ بنانے کے حوالے سے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت مانگ لی۔عدالت نے پروڈیوسر عمارہ حکمت کی متفرق درخواست پر سرور بھٹی کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا ۔عدالت نے 30اپریل کو فریقین وکلا کو دلائل کے لیے طلب کر لیا ۔