پاکستانی موبائل کمپنی یوفون تمباکو سے پاک اسلام آباد مہم کا حصہ بن گئی

جمعرات اپریل 19:40

پاکستانی موبائل کمپنی یوفون تمباکو سے پاک اسلام آباد مہم کا حصہ بن ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اپریل2019ء) پاکستانی ٹیلی کام کمپنی یوفون وفاقی وزارت صحت کے تمباکو نوشی سے پاک اسلام آباد اقدام کا حصہ بن گئی ہے۔ اس اقدام میں شمولیت کے بعد دارالحکومت اسلام آباد میں یوفون ٹاور تمباکو نوشی سے پاک مقامات کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جس کے بعد شہر میں تمباکونوشی سے پاک مقامات کی تعداد 216 ہوگئی ہے۔

اس سلسلے میں یوفون ٹاور کو تمباکو نوشی سے پاک مقام قرار دینے کے سلسلے میں تقریب منعقد ہوئی جس میں منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈی نیشن کی پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے شرکت کی۔ اس اقدام سے متعلق وزارت اور یوفون کے درمیان لیٹر آف انٹنٹ (Letter of Intent) پر بھی دستخط کئے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر نوشین حامد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "حکومت صحت کے شعبے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور تمباکو کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لئے نیشنل کینسر کنٹرول پلان پر کام کیا جارہا ہے اور یہ اسکی روک تھام کے لئے سب سے موثر حکمت عملی ہے۔

(جاری ہے)

" یوفون کے چیف آفیسر لیگل و ریگولیٹری افیئرز نوید خالد بٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے صحت کو درپیش نقصان دہ چیزیں بالخصوص کینسر کی روک تھام اور طرز زندگی سے متعلق امراض کی روک تھام کیلئے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا، "ہمیں صف اول کی پاکستانی کمپنی اور ذمہ دار کاروباری ادارے کے طور پر فخر ہے کہ ہم اس اقدام کا حصہ ہیں جس کے تحت عوامی صحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دفتری مقامات کو تمباکونوشی سے پاک بنایا جا رہا ہے ۔

" تمباکو سے پاک اسلام آباد اقدام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر منہاج السراج نے تقریب میں یوفون ٹاور کو تمباکونوشی سے پاک مقام قرار دینے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے موضوع کی پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs)سے ہم آہنگی کے ساتھ تمباکو کے نقصانات پر روشنی ڈالی اور تمباکو کو ترقی کیلئے خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ تمباکو کی صنعت کی وجہ سے غربت، صحت، بچوں کی تعلیم، صنفی مساوات، ماحولیات، زیر آب زندگی اور امن و انصاف کے ترقیاتی اہداف متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے تمباکو کو کنٹرول کرنے والے قوانین پر عمل درآمد کیلئے آبادی میں آگہی بڑھانے پر زور دیا اور بتایا کہ کس طرح سے صحت اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے احتیاطی اقدامات کئے جائیں۔

اسلام آباد کو تمباکونوشی سے پاک علاقہ قرار دینے کے سلسلے میں تمباکو فروخت کرنے والے دکانداروں سے متعلق خود مختار ادارے کی جانب سے گزشتہ ہفتہ جائزہ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ منسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز و کوآرڈی نیشن کا اسموک فری کیپٹل پروجیکٹ کا رواں سال 31 مئی کو تمباکو کے خلاف عالمی دن پر ٹوباکو وینڈر زلائسنسنگ کا کام مکمل ہورہا ہے۔ تمباکو کا استعمال مختلف بیماریوں بشمول مختلف اقسام کے 15 کینسرز کی بڑی وجہ ہے۔ تمباکو کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث ہر سال ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد کی آبادی تمباکو نوشی کرتی ہے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔