1122کا "تیراک" بہن کا جنازہ چھوڑ کر ڈیم میں ڈوبنے والی تین بہنوں کی تلاش کے لیے آ گیا

ریسکیو1122کا تیراک ظاہرشاہ بہن کی تدفین کے لیے بھی شامل نہ ہوسکا، دنیا کے لیے ایک نئی مثال قائم کر دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 16:38

1122کا
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جون 2019ء) : 1122کا "تیراک" بہن کا جنازہ چھوڑ کر ڈیم میں ڈوبنے والی تین بہنوں کی تلاش کے لیے آ گیا۔ ریسکیو1122کے تیراک ظاہرشاہ نے فرائض کی انجام دہی، صبر اور اعلیٰ کارگردگی کی دنیا کے لیے ایک نئی مثال قائم کر دی۔سوشل میڈیا پر ظاہرشاہ کی کچھ تصاویر وائرل ہیں، بتایا گیا ہے کہ ظاہر شاہ کے گھرمیں بہن کا جنازہ تیار تھا اور وہ دوسروں کی بہن بیٹی کے جنازے کے لیے جسد خاکی کی تلاش میں سرگرداں رہا۔

یہ ہےریسکیو1122کا تیراک ظاہرشاہ کندل ڈیم صوابی میں ڈوبنے والی تین بہنوں کی تلاش میں اپنی بہن کی تدفین کے لیے بھی شامل نہ ہوسکا۔
سوشل میڈیا صارفین نے ظاہر شاہ کو بہت سراہا ہے اور کہا کہ دنیا میں امن اور پیار ایسے ہی اچھے لوگوں کی وجہ سے قائم ہے۔

(جاری ہے)

خیال رہے صوابی کے علاقے کنڈل ڈیم میں سیاحوں کی کشتی ڈوبنے سے 3 معصوم بہنیں جاں بحق ہو گئی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق صوابی میں عید کی چھٹیوں کو دوبالا کرنے عوام کی بڑی تعداد کنڈل ڈیمپہنچی، سیر کی غرض سے آنے والے سیاحوں کی کشتی ڈیم میں ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 3 بچیاں جاں بحق ہوگئیں جبکہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت 35 کی زندگیوں کو بچا لیا۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق تینوں بچیاں صوابی کی رہائشی اور بہنیں تھیں جن کی شناخت منزیٰ،اقصیٰ اور تقویٰ کے نام سے ہوئی ہے، لاشوں کو والدین کے حوالے کردیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی نے صوابی میں کشتی ڈوبنے کے واقعے پر اظہار افسوس کیا۔۔ وزیر بلدیات نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی تھی کہ سیاحتی مقام کنڈل پر تمام تر حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور ریسکیو عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔