حمزہ شہباز کے پروڈکشن آڈر لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

بدھ جون 23:11

حمزہ شہباز کے پروڈکشن آڈر لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
لاہور۔19 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 جون2019ء) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے پروڈکشن آڈر کے اجرا ء کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ درخواست میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ جسمانی ریمانڈ پر ملزم کی اجلاس میں شرکت قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ سول سوسائٹی کے رکن عبداللہ ملک نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست میں یہ موقف اختیار کیا کہ پنجاب اسمبلی کے بعض رولز نیب اور ملکی قوانین سے متصادم ہیں۔

درخواستگزار کے مطابق زیر حراست ملزم کو دوران تفتیش اسمبلی اجلاس میں شرکت کی اجازت دینا قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ درخواستگزار نے نشاندہی کی کہ جسمانی ریمانڈ پر ملزم کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے جا سکتے۔ درخواستگزار نے نکتہ اٹھایا کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران پروڈکشن آرڈر سے تفتیش مکمل نہیں ہو سکتی۔

(جاری ہے)

درخواستگزار کے مطابق پنجاب اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں بجٹ سیشن یا اہم قانون سازی نہیں کی جا رہی، اس لئے حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر منسوخ کئے جائیں، جبکہ اسی نو عیت کی ایک اور درخواست خاتون وکیل ثوبیہ نے سینئر قانون دان آفتاب باجوہ کی وساطت سے حمزہ شہباز کے پروڈکشن آرڈر کیخلاف دائر کی ہے۔

جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ کے دوران سپیکر پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کر سکتا۔ درخواستگزار کے مطابق پنجاب اسمبلی رولز 1997 کے تحت سپیکر کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے، جبکہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق دوران تفتیش کسی ادارے کو مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ لہٰذ ا عدالت سے استدعا ہے کہ حمزہ شہباز کے جاری کئے گے پروڈکشن آرڈر کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے۔