سپریم کورٹ نے گیس چورملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی

شوگرملز مالکان پر ہے کہ عزت سے ادائیگی کرنی ہے یا جبر سے . جسٹس عظمت سعید

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جولائی 16:40

سپریم کورٹ نے گیس چورملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔31 جولائی۔2019ء) سپریم کورٹ نے لکی مروت کے گیس چورملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ گیس چوروں کوضمانت نہیں مل سکتی. قائم مقام چیف جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورت کے 3رکنی بینچ نے گیس چوری کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی‘ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ملزم چوری کی گیس سے بجلی بنا کرفروخت کرتا تھا، گھرسے جنریٹربھی برآمد ہوا ، متعلقہ محکمے پوچھنے آئے توپستول تان لیتا تھا.

(جاری ہے)

ملزم کے وکیل نے موقف اپنایا کہ لکی مروت میں18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اتنی لوڈشیڈنگ میں جنر یٹررکھنا مجبوری ہے، موکل کے گھرپرچھاپہ مارکرجنریٹربرآمد کیا گیا جنریٹر کے استعمال پرمقدمہ نہیں بنتا‘بینچ نے ریمارکس دیئے کہ ملزم پورے محلے کوبجلی فروخت کرتا تھا ، جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید بنتی ہے‘قائم مقام چیف جسٹس نے گیس چوری پر 14 سال سزا کو کم قراردیا.

سپریم کورٹ نے درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے حکم دیا کہ گیس چوروں کو ضمانت نہیں دے سکتے‘یاد رہے کہ لکی مروت کے عالمگیر خان کی کیخلاف رواں سال مارچ میں مقدمہ درج ہوا تھا. دوسری جانب سپریم کورٹ نے گنے کے کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگیوں سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ کاشتکاروں کو ادائیگی نہ کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے. سپریم کورٹ میں کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، قائم مقام چیف جسٹس عظمت سعیدشیخ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی.

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ کاشتکاروں کی گنے کی ٹرالیوں کو دھوپ میں وزن کم کرنے کیلئے کھڑا کر دیا جاتا ہے، جن کی فصل کھا گئے وہ اپنے بچوں کے کھانے کا بھی آپ کو شیڈول دیں. وکیل شوگر مل نے کہا کہ پیمنٹ کا شیڈول دے دیتے ہیں، عدالت وقت دے، ہمارے ڈائریکٹر چین گئے ہیں‘قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ چین جانے کے پیسے ہیں، کسانوں کو دینے کے نہیں.

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ خیرات یا ایدھی کیلئے چندہ نہیں مانگ رہے ،یہ شوگرملز مالکان پر ہے کہ عزت سے ادائیگی کرنی ہے یا جبر سے ، ادائیگیاں نہ ہوئیں تو ٹھوکر نیاز بیگ پر واقع دفتر بھجوا دیں گے. جسٹس عظمت سعید نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کو ادائیگی نہ کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے، آئندہ سماعت تک ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں بصورت دیگر شوگرملز مالکان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی بھی ہو سکتی ہے. بعدازاں عدالت نے کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت 8 اگست تک ملتوی کردی.