Live Updates

کچھ ویڈیوز میں نے دیکھی ہیں اگر میں بتادوں تو میرا قتل ہوجائے گا

یہ ویڈیوز اسحاق ڈار اور حسین حقانی کے پاس موجود ہیں اس کے علاوہ سکاٹ لینڈ اور سعودی عرب میں بھی موجود ہیں۔ عارف حمید بھٹی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ اگست 10:58

کچھ ویڈیوز میں نے دیکھی ہیں اگر میں بتادوں تو میرا قتل ہوجائے گا
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 اگست 2019ء) : معروف صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ ایک نام ہے اسحاق ڈار ایک کاپی ان کے پاس ہے۔رواں ہفتے بروز بدھ ایک آڈیو اور ویڈیو کی کاپی سکاٹ لینڈ بھجوا دی گئی ہے،اگر انکار کرنا ہے تو بے شک کر لیں۔میں ایک بندے کا نام بھی بتا دوں گا جو پچھلے دنوں میں پاکستان میں ہی تھا۔عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ یہ رکارڈنگ سعودی عرب میں ہے۔

عارف حمید بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ ایک دو چیزیں تو میں نے خود بھی دیکھی ہیں اگر میں بتا دوں تو میرا قتل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں کو اللہ بےنقاب کر دیتا ہے اور اب کچھ لولگ بے نقاب ہو گئے ہیں۔عارف حمید بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیوز اسحاق ڈار اور حسین حقانی کے پاس موجود ہیں اس کے علاوہ سکاٹ لینڈ اور سعودی عرب میں بھی موجود ہیں۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ پاکستان میں اب ویڈیوز کی سیاست شروع ہو چکی ہے۔اسی حوالے سے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ویڈیو کی سیاست ختم ہوگئی۔کچھ روز قبل مریم نواز جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو سامنے لائی تھی جس کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے دھماکہ خیز پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے پاس ایک ویڈیو موجود ہے جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس میں دباو کے تحت فیصلہ دیا۔

مریم نواز کے اس دعوے کے بعد جج ارشد ملک نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے ان الزامات کی تردید کی، اور شریف خاندان پر جوابی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان نے انہیں ان کے حق میں فیصلہ دینے کیلئے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، انہیں رشوت دینے کی کوشش کی۔ جبکہ اس کے بعد مریم نوازاحتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک اور ویڈیو سامنے لے آئی تھیؓں۔

ٹوئٹر پر جاری پیغام میں مریم نواز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر خود اپنی سرکاری گاڑی میں آتے ہیں اور رہنما ن لیگ ناصر بٹ کا استقبال کرتے ہیں۔ پھر ناصر بٹ جج صاحب کے پیچھے چل پڑتے ہوئے اور بعد میں جج صاحب کی رہائش گاہ میں داخل ہوتے ہیں۔ پھر جج صاحب کی رہائش گاہ میں دونوں کی ملاقات بھی ہوتی ہے۔
سعودی آئل ریفائنری پر حملہ سے متعلق تازہ ترین معلومات