انفرادی مزاحمت فلسطینیوں نے اسرائیل کے خلاف نئی حکمت عملی تیار کر لی

فلسطینی معاشرے میں مزاحمت کا ایک نیا اسلوب تیزی کے ساتھ فروغ پا رہا ، جس نے غاصب صہیونی ریاست کا جینا حرام کردیا ہے،رپورٹ

اتوار 18 اگست 2019 14:55

انفرادی مزاحمت فلسطینیوں نے اسرائیل کے خلاف نئی حکمت عملی تیار کر لی
مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2019ء) فلسطین میں تحریک آزادی کے لیے کام کرنے والی عسکری تنظیموں کی اسرائیلی مظالم کے خلاف کارروائیوں کے اب فلسطینی معاشرے میں مزاحمت کا ایک نیا اسلوب تیزی کے ساتھ فروغ پا رہا ہے، جس نے غاصب صہیونی ریاست کا جینا حرام کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں موجود اسرائیلی فوجیوں، یہودی آباد کاروں اورغاصب صہیونیوں کے خلاف فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کا آغاز اکتوبر 2015ء کو ہوا۔

فلسطینیوں کی انفرادی نوعیت کی مزاحمتی کارروائیوں نے اسرائیلی فوج، پولیس اور یہودی آباد کاروں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ اب قابض دشمن کو ہرزندہ فلسطینی سے خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ ہرایک کو اپنا یکساں دشمن سمجھتے ہیں۔

(جاری ہے)

چند ہفتے پیشتر غرب اردن اور غزہ میں فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ان انفرادی کارروائیوں نے قابض صہیونی دشمن کو غرب اردن اور القدس میں ایک نئی پریشانی سے دوچار کیا ہے۔

اسرائیل کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2018ء کے دوران غرب اردن اور القدس میں انفرادی نوعیت کی 50 مزاحمتی کارروائیاں کی گئیں۔ یہ سب فائرنگ کی کارروائیاں تھیں۔ چاقو کے حملوں کی 35، گاڑیوں تلے کچلے جانے کی 18 جب کہ دستی بموں،سیکڑوں پٹرول بم حملے کیے گئے۔ ان کارروائیواں میں 14 صہیونی جھنم واصل اور170 زخمی ہوئے۔فلسطینیوں کی طرف سے مزاحمتی کارروائیوں کے لیے انفرادی کارروائیوں کے لیے کئی طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔

گھروں میں باورچی خانے کے امورمیں استعمال ہونے والے چاقو چھریاں،ہلکے ہتھیار اور دیگر دستیاب وسائل اپنائے جاتے ہیں۔غزہ کی پٹی کی سرحد سے فلسطینیوں کی سرحد پار کارروائیاں بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ غزہ کی سرحد پربھی فلسطینیوں انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کا سلسلہ حال ہی میں دیکھا گیا۔فلسطینی عسکری امور کے تجزیہ نگار رامی ابو زبیدہ نے کہا کہ کسی تنظیم سے وابستگی کے بغیر فلسطینیوں کی کارروائیوں کو انفرادی کارروائیاں قراردیا جاتا ہے۔

ان انفرادی کارروائیوں کے لیے کسی تنظیم کی طرف سے کسی قسم لاجسٹک یا مالی معاونت فراہم نہیں کی جاتی۔مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی سرگرمیاں محض ایک رونامی نظریہ نہیں بلکہ غزہ اور غرب اردن میں فلسطینی عوام کے حقیقی حالات،دبائو، غم وغصے، قضیہ فلسطین کودرپیش مشکلات اور بالخصوص نوجوانوں کو درپیش پابندیوں کا اظہار کرتی ہیں۔

فلسطین میں انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کا آغاز 2015ء کو القدس اور غرب اردن میں ہوا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ پورے فلسطین میں پھیل گیا۔ غزہ میں فلسطینیوں کے حق واپسی مظاہروں کیدوران بھی اس کی مثالیں دیکھی گئیں۔فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان براہ راست جھڑپوں میں ہونے والی رکاوٹوں، فیلڈ کی صورت حال اور سیاسی بندشیں نوجوانوں اور قابض فوجیوں کے درمیان فاصلے پیدا کررہی ہیں۔تجزیہ نگار ابو زبیدہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی تنظیموں سے ماورائ مزاحمتی کارروائیوں نے اسرائیلی ریاست کو ایک نئے انداز اور اسلوب میں سوچنے پرمجبور کیا۔ صہیونی فوج بعض اوقات فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں کو بھی فلسطینی دھڑوں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔