بنوں،ہنگو اور شمالی وزیرستان میں 3نئے پولیو کیسوں کی تصدیق، 2بچیاں اور1بچے متاثر

پولیو ویکسین محفوظ ترین ہے،والدین شرپسند عناصرکے بہکاوے میں نہ آئیں، کیپٹن کامران احمد آفریدی

اتوار اگست 21:40

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 اگست2019ء) خیبر پختونخوا میں پولیو کے 3نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد سال رواں کے دوران صوبہ میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد44ہوگئی ہے ۔صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں اورہنگوسے 2بچیوں میں جبکہ قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے ایک بچہ میں پولیو وائرس کے آثار پائے گئے تھے جس پر تصدیق کے لئے ان بچوں کے فضلہ کے نمونے لیبارٹری تجزیہ کے لئے قومی ادارہ صحت اسلام آباد بھجوائے گئے جہاں تفصیلی تجزیہ کے بعد مرتب ہونے والی رپورٹ میں ان بچوں کے پولیو کا شکار ہونے کی تصدیق ہوگئی ۔

(جاری ہے)

ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخوا کے ایک پریس ریلیز کے مطابق پولیو سے متاثرہ بچوں میں2لڑکیاں اور1لڑکا شامل ہیں یوں سال رواں میںملک بھر میں پولیو کے مجموعی58مصدقہ کیسوں خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد44ہوگئی ہے جن میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ضلع بنوں کی ہے جہاں رواں سال22بچے پولیو کا شکار ہوئے صوبہ میں پولیو کے نئے کیس سامنے آنے پر آیمر جنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈینیٹر کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے ای او سی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ پولیو ویکسینشن کے بارے میں غلط فہمیوں اورہائی ٹرانسمشن سیزن کے باعث مختلف اضلاع میں پولیو کے یہ کیس سامنے آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان اضلاع میں خصوصی پولیو مہمات کا انعقاد کیا گیا جبکہ آنے والے دنوں میں مزید پولیو مہمات کا اجراء کیا جارہاہے انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے مکمل خاتمہ کے لئے تما م تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاہم صوبہ میں پولیو کیسز کی بڑی وجہ والدین کا بچوں کو قطرے پلانے سے انکار ہے جس کی بڑی وجہ بعض شرپسند عناصر کی جانب سے پولیو ویکسین کے متعلق بے بنیاد اور گمراہ کن پراپیگنڈا ہے انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ایک قومی فریضہ ہے اورضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات با لخصوص والدین پولیو مہمات میںان شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں پولیو ٹیموں سے تعاون کرکے اپنے بچوں کو معذوری سے بچائیں کامران آفریدی نے کہا کہ موثر انسداد پولیو مہمات میں ہر بچے تک پہنچ کر اسے پولیو قطرے پلائے بغیر پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں اور اس ضمن میں کوئی کوتاہی اور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی انہوں نے واضح کیا کہ پولیو ویکسین ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔