ملک بھر میں سبزیوں کی قلت پر قابو پانے کیلئے ٹنل ٹیکنالوجی سے استفادہ کی ہدایت

بدھ ستمبر 15:31

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2019ء) ملک بھر میں سبزیوں کی قلت پر قابو پانے کیلئے ٹنل ٹیکنالوجی سے استفادہ کی ہدایت کردی گئی ہے اور کہاگیاہے کہ ملک کے پڑھے لکھے نوجوان کاشتکار ترقی دادہ ٹنل ٹیکنالوجی پر مکمل دسترس کے لیے عملی تربیت حاصل کرکے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ملک بھر سے سبزیوں کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔

ماہرین زراعت نے کہاکہ پنجاب میں دسمبر اور جنوری میں درجہ حرارت کم ہونے اور کورا پڑنے کی وجہ سے موسم گرما کی اگیتی سبزیاں کھیت میں اگانا ممکن نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ موسم گرما کی سبزیوں کی اگیتی دستیابی اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے ٹنل کاشت طریقہ کو رواج دیا گیا ہے اورروائتی طریقہ کاشت کی نسبت بلند ، واک ان ٹنل اور پست ٹنل میں کھیرا ، ٹماٹر، شملہ مرچ، سبز مرچ ، گھیا کدو، گھیا توری، کریلہ، چپن کدو، حلوہ کدو، بینگن ، تربوز اور خربوزہ کی سبزیاں کامیابی سے اگائی جارہی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ٹنل کے اندر کاشت کی گئی سبزیوں کو شدید سردیوں کے موسم میں پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ دیا جاتا ہے جس سے ٹنل کے اندر کا درجہ حرارت مناسب رہتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ شدید سردی اور کورے کے باوجود ان سزیوں کے پودوں کی بڑھوتری جاری رہتی ہے اوریہ جلد تیار ہوجاتی اور اچھے داموں میں فروخت ہوتی ہیںجس سے کاشتکاروں کو زیادہ منافع حاصل ہوتاہے۔

انہوں نے ٹنل کے کاشتکاروں کو مزید بتایا کہ وہ ٹماٹر ، شملہ مرچ ، سبزمرچ اور بینگن کی نرسری کی کاشت ستمبر کے آخر تک مکمل کریں جبکہ کھیرا ،گھیا کدو ، گھیا توری ، کریلہ ، حلوہ کدو ، چپن کدو ، خربوزہ اور تربوز کی براہ راست کاشت نومبر کے آخرتک مکمل کی جاسکتی ہے۔انہوںنے بتایاکہ پلاسٹک ٹنل میں سبزیات کی کاشت کے لیے سب سے اہم مرحلہ سبزیوں کا انتخاب ، قسم ،بیماریوں سے پاک صحتمند بیج کا حصول اور صحت مند نرسری اگانا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ نرسری اگانے کے لیے بہتر نکاس والی ہموار اور زرخیز میرا زمین کا انتخاب کریں ۔انہوں نے بتایاکہ نرسری کے لیے منتخب کردہ کھیت درختوں کے سایہ سے دور اور ٹیوب ویل یا ڈیرے کے نزدیک ہو تاکہ نرسری کی دیکھ بھال میں آسانی رہے۔انہوںنے بتایاکہ نرسری کی کاشت سے قبل پتوں اور پودوں کے دیگر حصوں سے بنی ہوئی گلی سڑی اور باریک نامیاتی کھاد ڈال کر روٹا ویٹر سے اچھی طرح زمین میں ملا کر پانی لگائیں۔

انہوں نے کاشتکاروں کوہدایت کی کہ وہ نرسری ہمیشہ جالی دار واک ان ٹنل میں کاشت کریں تاکہ نرسری کے پودوں کو کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے محفوظ بنایا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ پنیری کی کاشت چھوٹی پٹڑیاں بنا کر لائنوں میں کی جائے تاہم لائنوں کا درمیانی فاصلہ 3انچ ہونا ضروری ہے۔