آئین میں صدرِ مملکت کو کسی بھی جج کے کنڈکٹ کی تحقیات کا حکم دینے کا اختیار ہے: چیف جسٹس

صدر کی کسی جج کے خلاف شکایت جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی،کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور با اختیار ہے: آصف سعید کھوسہ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ ستمبر 18:22

آئین میں صدرِ مملکت کو کسی بھی جج کے کنڈکٹ کی تحقیات کا حکم دینے کا اختیار ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-11 ستمبر2019ء) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بتایا ہے کہ آئین میں صدرِ مملکت کو کسی بھی جج کے کنڈکٹ کی تحقیات کا حکم دینے کا اختیار ہے، تاہم صدر کی کسی جج کے خلاف شکایت جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی،کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور با اختیار ہے۔ سٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے عدالتی سال کی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف بھجوائے گئے صدارتی ریفرنسز پر سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی روک دی ہے، کارروائی اسی معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی درخواستیں دائر کرنے کے سبب روکی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین صدر کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کا اختیار دیتا ہے‘ سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کر سکتی. صدر کی کسی جج کے خلاف شکایت جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی، دوسری جانب کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور با اختیار ہے‘انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سپریم جوڈیشل کونسل میں نجی درخواستوں کی تعداد 56 تھی، گزشتہ سال کونسل میں 102 شکایات کا اندراج ہوا عدالتی سال میں کونسل میں 149 شکایات نمٹائی گئیں.اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل میں صرف 9 شکایات زیر التوا ہیں۔

(جاری ہے)

9 شکایات میں صدر مملکت کی جانب سے دائر 2 ریفرنس بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ صدر کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل کارروائی کر رہی ہے. سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ارکان اور چیئرمین اپنے حلف پر قائم ہیں کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر کام جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی توقع نہ رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس تاثر کو بہت خطرناک سمجھ رہے ہیں کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجینئرنگ ہے، اس تاثر کے ازالے کے اقدامات کر رہے ہیں‘چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا.