لاہور ہائیکورٹ نے جج ارشد ملک کو اوایس ڈی بنا دیا

جج ارشد ملک کو ویڈیو اسکینڈل کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تھا، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ ستمبر 18:22

لاہور ہائیکورٹ نے جج ارشد ملک کو اوایس ڈی بنا دیا
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 ستمبر2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے جج ارشد ملک کو اوایس ڈی بنا دیا، جج ارشد ملک کو ویڈیو اسکینڈل کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تھا، رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے نوٹیفکیشن جاری کردیاہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کے کیس کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت جج ارشد ملک کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کردیاہے۔

جج ارشد ملک کو ویڈیو اسکینڈل کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ دوسری جانب اسلام آباد کی مقامی عدالت نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل میں نامزد تین ملزمان کو بری کردیا۔ ہفتہ سات ستمبر کو جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کیس میں ملزمان میں ناصر جنجوعہ، خرم یوسف، غلام جیلانی کو سول جج شائستہ کنڈی کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔

(جاری ہے)

دور ان سماعت جج شائستہ کنڈی نے کیس سننے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں ذاتی وجوہات کی بنا کر کیس نہیں سن رہی ۔ وکیل نے کہا کہ آپ کو کیس سننا چاہیے۔ جج شائستہ کنڈی نے کہا کہ کہہ دیا کہ نہیں سن رہی آپ مجھے جانتے ہیں، کسی اور جج کے پاس بھیج رہی ہوں وہ سنیں گے۔ وکیل نے کہا کہ بہت گیمز ہیں آپ ہی سن لیں یہ کیس تو بہتر ہے،اگر کوئی چاہتا کہ کیس آپ نہ سنیں، اس کے باوجود آپ کو سننا چاہیے۔

جج شائستہ کنڈی نے کہا کہ ایک دفعہ جو کہنا تھا میں کہہ چکی ہوں، میں کیس نہیں سنو گی، مزید کچھ نہیں کہتی۔ جج کی معذرت کے باوجود ملزمان کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے بار بارکیس سننے کی استدعا کی۔ بعد ازاں جج شائستہ خان کنڈی کی معذرت کے بعد تینوں ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ ثاقب جواد کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ایف آئی اے تفتیشی افسر محبوب نے عدالت میں بیان دیا کہ ملزمان کے خلاف ثبوت نہیں ملے۔

جج نے ایف آئی اے تفتیشی سے استفسار کیا کہ تفتیش کے دوران کوئی بھی ثبوت نہیں ملا۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی ثبوت نہیں ملے۔ ایف آئی اے نے کہا کہ عدالت چاہے تو گرفتار تینوں ملزمان کو رہا کردے۔عدالت نے فیصلہ کچھ دیر کیلئے محفوظ کیا اور پھر سناتے ہوئے کہا کہ تینوں ملزمان کو بری کر دیا۔ ملزمان ناصر جنجوعہ اور غلام جیلانی پر جج ارشد ملک کو بلیک میل کرنے کا الزام تھا ،ملزم خرم یوسف ویڈیو سکینڈل کے کردار ناصر بٹ کا بزنس پارٹنر ہے ،تینوں ملزمان کا ذکر جج محمد ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں کیا تھا۔