حکومت نوازشریف ڈیل کا تاثر دے کراپنا بیانیہ بنارہی ہے،منصورعلی خان

حکومت کو لگتا ہے شاید نوازشریف کو قانونی طور پر آئندہ دنوں کوئی ریلیف مل جائے، حکومت چاہتی کہ اس سے پہلے ایک بیانیہ بنا لیا جائے کہ نوازشریف ایک ڈیل کے نتیجے میں جیل سے باہر آرہے ہیں،لیکن نوازشریف تو ہر طرح کی ڈیل کو مسترد کرچکے ہیں۔سینئر تجزیہ کار منصور علی خان گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر ستمبر 16:04

حکومت نوازشریف ڈیل کا تاثر دے کراپنا بیانیہ بنارہی ہے،منصورعلی خان
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 ستمبر2019ء) سینئر تجزیہ کار منصور علی خان نے کہا ہے کہ حکومت نوازشریف ڈیل کا تاثر دے کرایک بیانیہ بنارہی ہے،حکومت کو لگتا ہے شاید نوازشریف کو قانونی طور پر آئندہ دنوں کوئی ریلیف مل جائے، حکومت چاہتی کہ اس سے پہلے ایک بیانیہ بنا لیا جائے کہ نوازشریف ایک ڈیل کے نتیجے میں جیل سے باہر آرہے ہیں،لیکن نوازشریف تو ہر طرح کی ڈیل کو مسترد کرچکے ہیں۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں شیخ رشید کی طرح کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔اطلاعات یہ ہیں کہ مسلم لیگ ن کے حلقے سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے جو ڈیل کی باتیں کی جارہی ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کو لگتا ہے شاید نوازشریف کو قانونی طور پر آئندہ دنوں کوئی ریلیف مل جائے۔

(جاری ہے)

اس لیے حکومت چاہتی کہ اس سے پہلے ایک بیانیہ بنا لیا جائے کہ نوازشریف ایک ڈیل کے نتیجے میں جیل سے باہر آرہے ہیں۔

اگر یہ باہر آ بھی جائیں تو ہمارے کوئی مشکلات پیدا نہ کرسکیں۔ منصور علی خان نے کہا کہ مریم نوازپہلے بھی خاموش ہوگئی تھیں، نوازشریف چاہیں گے تو مریم نواز کبھی بھی خاموش نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف یہ سوچ چکے ہیں کہ جوہونا تھا وہ ہوچکا ہے۔اس سے زیادہ ہمارے ساتھ مزید برا نہیں ہوسکتا۔ بیگم کلثوم نوازدنیا چھوڑ گئیں، ہمیں جیل میں ڈال دیا گیا ، پارٹی توڑنے کی کوشش کی گئی۔

ہم نے جو برداشت کرنا تھا وہ کرلیا ہے۔نوازشریف کی قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے نزدیک اب اگر شہبازشریف ، آصف زرداری یا کوئی بھی ڈیل کی کوشش کرے، ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی قسم کے ڈیل کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان سے ملاقات میں بتایا کہ وہ" نوڈیل نو کمپرومائز" کے موقف پر قائم ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا۔پہلی بار احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد ہے۔احتساب کا عمل شفاف اور بے لاگ ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ ساری توجہ کشمیر پر مرکوز ہے۔