ہاسٹل کے کمرے میں مردہ حالت میں ملنے والی نمرتا کی موت خودکشی نہیں ہے: ڈاکٹرز نے نئی کہانی بتا دی

نمرتا کے گلے میں دوپٹا بندھا تھا لیکن اس کے گلے میں رسی کے نشانات ہیں: پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کا بیان

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ پیر ستمبر 23:48

ہاسٹل کے کمرے میں مردہ حالت میں ملنے والی نمرتا کی موت خودکشی نہیں ہے: ..
لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 16 ستمبر2019ء) ہاسٹل کے کمرے میں مردہ حالت میں ملنے والی نمرتا کی موت کے بارے میں ڈاکٹرز نے نئی کہانی بتا دی ہے۔ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ نمرتا کے گلے میں دوپٹا بندھا تھا لیکن اس کے گلے میں رسی کے نشانات ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نمرتا کی موت خودکشی نہیں ہے تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کیا جاسکتا، تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد حتمی رائے دی جا سکے گی۔

خیال رہے کہ لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے 22 سالہ طالبہ کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نمرتا کی نعش کو کمرے کا دروازہ توڑ کر نکالا گیا، نمرتا کے گلے میں دوپٹہ بندھا ہوا تھا۔ اس کا تعلق ضلع گھوٹکی سے تھا جبکہ متوفیہ کے والدین کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔

(جاری ہے)

چانڈکا میڈیکل کالج کی وائس چانسلر ڈاکٹر انیلہ کےمطابق جس لڑکی کی لاش ملی ہے اس کا نام نمرتا ہے اور وہ بی ڈی ایس فائنل ائیرکی طالبہ تھی۔

وائس چانسلر نے بتایا ہے کہ نمرتا چھٹیوں پر تھی اور آج کل امتحانات کی تیاری میں مصروف تھی اور اسکے گھر والوں‌ کو اس کی وفات کی خبر کر دی گئی ہے اور وہ لاڑکانہ کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق طالبہ کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی لاڑکانہ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے گی جو کہ تمام پہلوؤں سے معاملے کی چھان بین کرے گی جبکہ میڈیکل کالج میں طالبہ کی ہلاکت کے واقعے کے بعد ہاسٹل نمبر تین کو سیل کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق لڑکی نمرتا کے گلے پر نشانات بھی ملے تھے۔ پولیس نمرتا کے ساتھ ہاسٹل کے کمرے میں مقیم دیگر طالبات سے بھی بیان لے رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ نمرتا کے گلے میں دوپٹا بندھا تھا لیکن اس کے گلے میں رسی کے نشانات ہیں۔

متعلقہ عنوان :