سگریٹ کے عادی پاکستانی سعودی عرب جاتے وقت ہوشیار ہو جائیں

کسی بھی مسافر کو سگریٹ کے پانچ پیکٹ سے زیادہ لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی، تمباکو کی حد تین کلو مقرر کر دی گئی

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ جنوری 13:32

سگریٹ کے عادی پاکستانی سعودی عرب جاتے وقت ہوشیار ہو جائیں
جدہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25جنوری 2020ء) پاکستان سے ہر سال 20لاکھ سے زائد افراد عمرہ، حج اور روزگارکی غرض سے سعودی عرب جاتے ہیں۔ جبکہ پہلے سے مقیم لاکھوں افراد کا بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اکثر پاکستانی تمباکو نوشی کے بہت شوقین ہیں۔ تاہم اب اُنہیں اپنے اس شوق کے حوالے سے احتیاط برتنی ہو گی، ورنہ اُنہیں ہزاروں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

سعودی محکمہ کسٹم کی جانب سے ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے کہ آئندہ سے کوئی بھی غیر مُلکی اپنے ہمراہ سگریٹ کے پانچ سے زائد پیکٹ ہمراہ نہیں لا سکتا۔ صرف پانچ پیکٹس کی اجازت ہو گی۔ اگر کسی شخص کے پاس سگریٹ کے پانچ سے زیادہ پیکٹس ہوں گے تو وہ اسی وقت ضبط کر لیے جائیں گے۔تمباکو نوشی کے حوالے سے اس نئے ضابطے پر 16 جنوری 2020ء سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ حُقے کے لیے تمباکو کی حد ایک ڈبہ یا نصف کلو تک مقرر کی گئی ہے۔ سعودی محکمہ کسٹم کے مطابق یہ پابندی اُن تمام مسافروں پر نافذ العمل ہو گی جو ایئر پورٹس، بندرگاہوں یا زمینی سرحدی چوکیوں کے ذریعے مملکت میں داخل ہوں گے۔ مسافروں کے پاس مقررہ حد سے زائد تمباکو اور سگریٹ کے پیکٹس موقع پر موجود کسٹم اہلکار ضبط کر لیں گے۔جبکہ کسٹم ڈیوٹی مقررہ مقدار کے حوالے سے وصول کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سعودی مملکت میں چند ماہ قبل ریستورانوں، کیفے اور ہوٹلز میں شیشہ سروس فراہم کرنے پر 100 فیصد ٹیکس کا نفاذ کیا گیا تھا۔تاہم اس فیصلے کے منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ شیشہ فراہم کرنے پر 100 فیصد ٹیکس کے نفاذ کے باعث اب تک درجنوں کیفے بند ہو چکے ہیں، جبکہ اگلے چند روز میں مزید سینکڑوں کیفے بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو چلا ہے۔ جبکہ کئی کیفے مالکان نے سو فیصد ٹیکس کے باعث شیشہ کی فراہمی بند کر دی ہے۔

درجنوں ٹویٹر صارفین کی جانب سے ایسی تصاویر اورویڈیوز شیئر کی گئی ہیں جن میں کئی شیشہ کیفے گاہکوں سے خالی نظر آ رہے ہیں، کیونکہ شیشہ کی بڑھی ہوئی قیمت کے باعث اکثر لوگوں کے لیے اس سے لطف اندوز ہونا مشکل ہو چلا ہے۔ نئے قواعد کے مطابق شیشہ فراہم کرنے والے ہوٹلوں، ریستورانوں اور کیفے ٹیریاز کواپنے گاہکوں کو شیشہ فراہم کرنے کی خاطر سب سے پہلے لائسنس حاصل کرنا ہو گا۔ اس لائسنس کی ہر سال تجدید بھی کروانا لازمی ہوی گی۔ شیشہ فراہم کرنے والے تمام فوڈ پوائنٹس پر فیس کا نفاذا ن کی زمرہ بندی کے حساب سے ہو گا۔