خواتین پر مرد کے تشدد کو دلفریب انداز میں پیش نہیں کرتی، گلوکارہ

یہ سچ ہے ماضی میں میں نے چند ایسے گانے تیار کیے جو آج کے دور سے مطابقت نہیں رکھتے ، آئندہ ایسے گانے نہیں بنا ئونگی ،لینا ڈیل رے

بدھ مئی 14:02

خواتین پر مرد کے تشدد کو دلفریب انداز میں پیش نہیں کرتی، گلوکارہ
لاس اینجلس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 مئی2020ء) متعدد میوزیکل ایوارڈ جیتنے والی امریکی پاپ گلوکارہ، موسیقار، لکھاری و اداکارہ لینا ڈیل رے نے خود پر لگے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ خواتین پر مرد حضرات کے تشدد کو رومانوی یا دلفریب انداز میں پیش نہیں کرتیں بلکہ وہ حقیقت بیان کرتی ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطاقب لینا ڈیل رے کا اصل نام ایلزبیتھ وول رج گرانٹ ہے اور انہوں نے محض 19 برس کی عمر 2004 میں پروفیشنل گلوکارہ کے طور پر کیریئر کا آغاز کیا۔

لینا ڈیل رے نے کیریئر کے آغاز سے ہی اپنے گانوں اور موسیقی کی تھیم المناک محبتیں، افسردگی، گلیمر، دلفریب مگر مشکل رومانوی تعلقات جیسے موضوع رہے ہیں۔گلوکارہ کے زیادہ تر گانے حقیقت پسندی اور مرد و خواتین کے درمیان رومانوی تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں، جن میں دونوں کے تعلقات میں آنے والے مسائل کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

گلوکارہ پر زیادہ تر فیمنسٹ خواتین صحافی، لکھاری اور موسیقار الزام لگاتی ہیں کہ وہ جان بوجھ کر ایسے گانے بناتی ہیں جن میں خواتین کو کمزور دکھایا جاتا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ خواتین جنس مخالف کی محبت کے لیے مری جا رہی ہیں۔

لینا ڈیل رے پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ گانوں میں ایسے عوامل کی تشہیر کرتی ہیں جن میں مرد حضرات کو خواتین پر رومانوی انداز میں تشدد یا ان کی تذلیل کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور ایسے رویوں کو گلوکارہ اس طرح فلماتی ہیں کہ وہ دلفریب اور خوبصورت لگتے ہیں۔گلوکارہ لینا ڈیل رے پر گزشتہ چند سال میں الزامات میں تیزی دیکھی گئی ہے اور حال ہی میں کئی شخصیات نے انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ گلوکارہ کے گانے نوجوان لڑکیوں کے لیے تباہ کن ہیں، کیوں کہ وہ دیکھتی ہیں کہ گانوں میں مرد کے جذباتی، جسمانی اور جنسی تشدد کو دلفریب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ ماضی میں بھی گلوکارہ لینا ڈیل رے ایسے الزامات کو مسترد کرتی آئی ہیں، تاہم حال ہی میں انہوں نے اپنی طویل انسٹاگرام پوسٹ میں ایک بار پھر ایسے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ خواتین پر مرد حضرات کے تشدد کو رومانوی یا دلفریب انداز میں پیش نہیں کرتیں بلکہ وہ حقیقت بیان کرتی ہیں۔گلوکارہ نے اپنی طویل پوسٹ میں لکھا کہ یہ سچ ہے کہ ماضی میں انہوں نے چند ایسے گانے تیار کیے جو آج کے دور سے مطابقت نہیں رکھتے اور انہوں نے ایسے گانوں کو ڈیلیٹ بھی کردیا اور کہا کہ وہ آئندہ ایسے گانے نہیں بنائیں گی، تاہم ان پر لگائے جانے والے الزامات غلط ہیں۔

پاپ گلوکارہ نے تسلیم کیا کہ وہ فیمنسٹ نہیں ہیں تاہم ان کی خواہش ہے کہ فیمنزم میں بھی ان جیسی خواتین کیلئے ایک مقام ہونا چاہیے جو کہ حقیقت پسند ہیں اور جو اصل زندگی میں اپنے رومانوی تعلقات کے دوران کچھ مسائل کا شکار رہتی ہیں۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ گانوں کے ذریعے خواتین پر مرد کے تشدد کو دلفریب انداز میں پیش نہیں کرتیں بلکہ وہ حقیقت دکھاتی ہیں کیوں کہ یہ سچ ہے کہ رومانوی تعلقات کے دوران کبھی کبھی کچھ مرد و خواتین کے تعلقات مشکل بن جاتے ہیں اور ان میں تلخیاں پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ تشدد کے واقعات بھی ہونے لگتے ہیں۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں خود پر الزام لگانے والی خواتین اور شخصیات کو منافق قرار دیا اور لکھا کہ جو لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں انہیں آریانا گرانڈے، ڈوجا کیٹ، کارڈی بی، کمیلا، کہلانی اور نکی مناج جیسی گلوکارائیں کیوں دکھائی نہیں دیتیں جو عریانیت اور فحش روایات کو فروغ دیتی ہیں۔انہوں نے لکھا کہ مذکورہ تمام گلوکارائیں بعض اوقات کپڑوں کے بغیر ہی پرفارمنس بھی کرتی ہیں مگر ان کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاتا اور جب وہ حقیقی مسائل کو بیان کرتی ہیں تو انہیں خواتین پر تشدد کو دلفریب انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے اس عمل کو منافقت قرار دیا اور کہا کہ ان کی خواہش کے فیمنزم میں ان کی طرح کی دیگر خواتین کیلئے بھی ایک مقام ہونا چاہیے جو کہ عام فیمنسٹ خواتین کے مقابلے دوسرے طریقے سے زندگی گزارتی ہیں۔گلوکارہ کی جانب سے کی گئی لمبی چوڑی پوسٹ پر درجنوں افراد نے کمنٹس کیے اور ان کے ساتھ پیش آنے والے رویے کو افسوس ناک بھی قرار دیا۔