افغان فورسز نے باب دوستی پر سرحد کے پاکستان کی طرف جمع ہونے والے بے گناہ شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی

چوکیوں پر تعینات پاکستانی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی، ترجمان دفتر خارجہ کا 30 جولائی کو پاک افغان چمن بارڈر پر ناخوشگوار واقعہ پر ردعمل کا اظہار

جمعہ جولائی 21:55

افغان فورسز نے باب دوستی پر سرحد کے پاکستان کی طرف جمع ہونے والے بے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 31 جولائی2020ء) ترجمان دفتر خارجہ نے 30 جولائی کو پاک افغان چمن بارڈر پر ناخوشگوار واقعہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فورسز نے باب دوستی پر سرحد کے پاکستان کی طرف جمع ہونے والے بے گناہ شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ کی، چوکیوں پر تعینات پاکستانی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی۔

جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی فورسز نے صرف مقامی آبادی کے تحفظ اور اپنے دفاع کیلئے جوابی کارروائی کی۔ ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستانی فورسز نے پہلے فائر نہیں کیا اور صرف اپنے دفاع میں جواب دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پاکستان نے فوری طور پر فوجی اور سفارتی چینلز کو متحرک کیا اور انتھک کوششوں کے بعد ہی افغانستان کی طرف سے فائرنگ روک دی گئی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحدیں افغان حکام کی درخواست پر پیدل چلنے والوں اور نقل و حمل کے لئے کھول دی گئی تھیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے مابین تجارت کی باقاعدہ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس کوششیں کررہا ہے جنہیں بعض عناصر سبوتاژ کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ عیدالاضحی کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو بھی اجازت دی گئی تھی تاہم اس مقصد کے لئے جمع ہونے والے لوگوں پر افغان فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ سمجھ سے بالاتر ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس بدقسمت واقعہ کے نتیجہ میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور جان بوجھ کر پاکستان کی طرف سرکاری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق بدقسمتی سے افغانستان کی طرف سے بھی نقصانات ہوئے۔ اگر افغانستان کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ کا پہل نہ کیا جاتا تو اس سے بچا جا سکتا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطہ میں امن اور استحکام کے مفاد میں افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔