پاکستان میں بکنے والے 16 فیصد سگریٹ غیر قانونی ہیں، اسپارک

تمباکو کی بڑی کمپنیاں ملوث،سروے سے تمباکو پر ٹیکس بڑھانے کی کاوشوں کو تقویت ملے گی

ہفتہ ستمبر 16:38

پاکستان میں بکنے والے 16 فیصد سگریٹ غیر قانونی ہیں، اسپارک
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 ستمبر2020ء) سوسائٹی برا ئے تحفظ حقوق اطفال (اسپارک) نے ''پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کا ذمہ دار کون ہی'' کے عنوان سے ایم سی اے ٹائون ہال صدر میں سیشن کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر کاشف مرزا میڈیا منیجر اسپارک نے بتایا پاکستان میں بکنے والے 16 فیصد سگریٹ غیر قانونی ہیں، تمباکو کی بڑی کمپنیاں ملوث ہیں۔

اس سروے کو پاکستان ہیلتھ ریسرچ کونسل نے منظور کیا ہے اور اس پر عمل درآمد وزارت صحت کے تمباکو کنٹرول سیل کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ ریسرچ کے نتائج بروقت ہیں، کیونکہ جلد ہی نئے بجٹ کا اعلان کیا جائے گا اور اس سروے سے تمباکو پر ٹیکس بڑھانے کی کاوشوں کو تقویت ملے گی، سروے میں 6،000 سے زیادہ تمباکو نوشی کرنے والوں سے تمباکو نوشی چھوڑنے کی خواہش اور تمباکو کی روک تھام کے اقدامات پر کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

(جاری ہے)

اوسطا ایک سگریٹ نوش سگریٹ پر تقریبا 2000 روپیہ خرچ کرتا ہے اور دن میں تقریبا 13 سگریٹ پیتے ہیں۔ دو تہائی تمباکو نوش تمباکو نوشی کو روکنا چاہتے ہیں۔ تاہم، مناسب مشورے یا دوائیوں کی عدم موجودگی میں، زیادہ تر مکمل طور پر رکنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔فیلڈ مینیجر حارث جدون نے سروے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے تمباکو ٹیکسوں میں اصلاحات کا یہ مثبت نتیجہ ہے۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ زیادہ تر تمباکو نوش، تمباکو کے روک تھام کے حق میں ہیں۔ ان میں سے اکثر تمباکو نوشی سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان اقدامات سے انہیں تمباکو کی لت سے مکمل آزادی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔شمائلہ مزامل نے کہا کہ پاکستان کے 10 سب سے زیادہ آبادی والے شہروں میں اسٹڈینگ ٹوبیکو یوزرز آف پاکستان (ایس ٹی او پ) سروے کیا گیا۔ مزید برآں، سروے ٹیم نے 8000 سے زیادہ سگریٹ پیکٹوں کی جانچ بھی کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کتنے پیکٹ غیر قانونی یا اسمگل تھے۔ سگریٹ کے تقریبا 16 فی فیصد پیکٹ غیر قانونی پائے گئے۔ تاہم، یہ تخمینہ تمباکو کی صنعت کے دعووں سے بہت کم ہے۔

متعلقہ عنوان :