وفاقی دارالحکومت میں مفادات کے ٹکراؤ کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں، ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے سے اسلام آباد کے مختلف سیکٹر زمتاثرین کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی

بدھ ستمبر 14:48

وفاقی دارالحکومت میں مفادات کے ٹکراؤ کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں، ہائی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2020ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت میں مفادات کے ٹکراؤ کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں۔ بدھ کو چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں ایکوائر زمینوں کے متاثرین کو معاوضہ دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے معاون خصوصی علی اعوان کو ہدایت کی کہ متاثرین کو معاوضہ دینے کے معاملات کو ایگزیکٹو دیکھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے سے اسلام آباد کے متاثرین کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اور حکم امتناع کے باوجود پلاٹس کی الاٹمنٹ جاری رہنے پر اظہار برہمی بھی کیا۔عدالت نے معاون خصوصی سے کہا کہ ہم نے حکم امتناع دیا پھر بھی پلاٹ کیوں الاٹ کئے گئی ، جب تک آخری متاثرہ شخص کو معاوضہ نہیں مل جاتا تب تک کسی کو کوئی پلاٹ الاٹ نہیں ہوگا، نیب کے وعدہ معاف گواہ بننے والوں کو بھی پلاٹ الاٹ کردیے گئے، جتنی ناانصافی یہاں ہے کسی اور جگہ اتنی نہیں، یہاں پر قبضے ہو رہے ہیں کرائم بڑھ رہا ہے، مفادات کے ٹکراؤ کے علاوہ اسلام آباد میں ہے ہی کچھ نہیں، ریونیو آفیسر خود پلاٹ خرید رہا ہوتا ہیاگر اس کا اپنا مفاد نہ ہو تو وہ اچھے طریقے سے کام کرے گا۔

(جاری ہے)

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی۔