اپنی مسلم شناخت کو ہندو شناخت سے الگ نہیں کرسکتا ، مہیش بھٹ

ایسا کرنے کیلئے یا تو مجھے مارنا پڑے گا یا پھر مجھے گمنام کر کے الگ تھلگ ایک کمرے میں بند کردیا جائے تو ہی یہ ممکن ہے، بالی ووڈ ہدایتکار

بدھ ستمبر 16:27

اپنی مسلم شناخت کو ہندو شناخت سے الگ نہیں کرسکتا ، مہیش بھٹ
ممبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 ستمبر2020ء) بالی ووڈ کے مایہ ناز ہدایت کار مہیش بھٹ نے کہا ہے کہ وہ اپنی مسلم شناخت کو ہندو شناخت سے کبھی علیحدہ نہیں کرسکتے۔مہیش بھٹ نے اپنے ایک انٹرویو میں والدین کی بین الامذاہب شادی کے حوالے سے بتایا کہ اٴْن کی والدہ ایک شیعہ مسلم تھیں جبکہ والد بھی کٹر اعتقاد کے حامل ہندو تھے جنہوں نے کبھی بھی سیکولر ہونے کو فوقیت نہیں دی۔

مہیش بھٹ نے کہا کہ یہ میرے والدین کی زندگی کا دلچسپ پہلو ہے کہ اٴْن دونوں نے اپنے انفرادی عقائد کو برقرار رکھا، وہ دونوں جنون کی حد تک ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے لیکن مذہبی اعتبار سے دونوں میں کبھی کوئی چپقلش سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے والدہ کو ہمیشہ ماتھے پر ٹیکا اور ساڑھی میں ملبوس دیکھا ہے، لیکن اسی دوران ہم ان کی شخصیت میں کسی چیز کی کمی بھی محسوس کرسکتے تھے۔

(جاری ہے)

مہیش بھٹ نے بتایا کہ جیسے جیسے ہم ہوش سنبھال رہے تھے تو والدہ کو یہ خدشہ تھا کہ ان کی اقلیت کی حیثیت ہماری روز مرہ کی زندگیوں میں مداخلت کرے گی۔انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جب میں نے مسلم عقائد سے منہ پھیرا تو وہ قدرے شرمندہ تھیں۔حال ہی میں مہیش بھٹ نے سنیل دت کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ایک بار پھر اسی مسئلے اور اس کے حل پر بات کی، انہوں نے کہا کہ کچھ بھی کر کے میرے مسلم ڈی این اے کو ہندو ڈی این اے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کیلئے یا تو مجھے مارنا پڑے گا یا پھر مجھے گمنام کر کے الگ تھلگ ایک کمرے میں بند کردیا جائے تو ہی یہ ممکن ہے۔مہیش بھٹ نے کہا کہ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ عقائد ، فرقہ واریت اور رشتوں کی کہانی کا احاطہ کرتے ہوئے فلم بنائیں تو ہمیں اپنے دستاویزات کے ساتھ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے پاس بھاگنا پڑتا ہے۔’سارانش،‘ ’نام‘ اور ’زخم‘ جیسی حساس فلمیں بنانے والے فلم ساز اور ہدایت کار مہیش بھٹ نے کہا کہ ہندوستان میں وہی فلمیں چلتی ہیں جن کا موضوع قدرے ’متنازع‘ ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوان :