کاشتکاروں کو سلوشیا اور سلوشیا پلوموساکی پنیری 30ستمبر تک باغات اور باغیچوں میں منتقل کرنے کی ہدایت

بدھ ستمبر 15:30

فیصل آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2020ء) ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو سلوشیا اور سلوشیا پلوموسا کی پنیری 30 ستمبر تک باغات اور باغیچوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ مذکورہ انتہائی خوبصورت ، دلکش موسمی پھول کو گھریلو باغیچوں اور باغات میں لگانے کاعمل جلد مکمل کر لیا جائے تاکہ رنگ برنگ پھول موسم سرما میں اپنی بہار دکھا سکیں۔

انہوںنے کہاکہ اگرچہ یہ پوداسدابہار پودا ہے لیکن اسے ہمیشہ موسم سرما کے دوران موسمی پھول کے طور پر ہی لگایا جاتاہے جو نمی کے موسم میں سخت جان ہونے کے باعث نہائت تیزی سے بڑھتا اور پھلتاپھولتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس کی سلوشیا کرسٹٹااور دوسری سلوشیا پلوموسا نامی اقسام انتہائی پسندیدگی سے کاشت کی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے بتایاکہ سلوشیا کرسٹٹا کے پودے پر پیلے اورنج اور گلابی رنگ کے کلغی دار نرم و ملائم ویلوٹی انداز کے پھول لگتے ہیں جو کہ موسم خزاں کے شروع تک اپنا جوبن دکھاتے رہتے ہیں جبکہ سلوشیا پلوموساکے پودے پر اُون کی طرح کے نرم و ملائم، پروں جیسے انتہائی خوبصورت پھول لگتے ہیں جن کا رنگ گہرا سرخ اور سنہری ہوتا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ ان دونوں اقسام کو الگ الگ ہی تصور کیا جاتا ہے لیکن بعض ماہر نباتات ان کو ایک ہی نوع یعنی سیلوشیا ارجنٹیناکی اقسام قرار دیتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ باغبان و گھریلو افراد پنیری کو کیاریوں اور گملوں وغیرہ میں منتقل کرنے کے بعد اچھی طرح مناسب اور درمیانی مقدار میں پانی لگاتے رہیںاور پھول آجانے کے بعد پانی کی فراہمی نسبتاً کم کردی جائے کیونکہ بہت زیادہ یا بہت کم پانی کی مقدار پودوں کیلئے نقصان دہ ہے۔

متعلقہ عنوان :