منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں شہباز شریف اپنی عبوری ضمانت میں توسیع کیلئے (کل) پیش ہونگے

بدھ ستمبر 17:56

منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں شہباز شریف اپنی عبوری ..
لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2020ء) لاہور ہائیکورٹ میں منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اپنی عبوری ضمانت میں توسیع کے لئے کل بروز جمعرات پیش ہونگے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کرے گا،عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے شہباز شریف کی ضمانت میں آج بروز جمعرات تک کیلئے توسیع دی تھی۔

عدالت عالیہ کے روبرو درخواستگزار شہباز شریف نے دائر ضمانت درخواست میں چیئرمین نیب سمیت دیگر کو فریق بناتے ہو ئے موقف اختیار کیا ہے کہ 1972ء میں بطور تاجر کاروبار کا آغاز کیا اور ایگری کلچر، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا، سماج کی بھلائی کیلئے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا۔

(جاری ہے)

شہباز شریف نے درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ سیاسی دبا ئو کی وجہ سے نیب نے دو با رہ انکوائری شروع کی ہے جبکہ انکوائری میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 2018ء میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا، اس دوران بھی نیب کیساتھ بھر پور تعاون کیا تھا۔ درخواست گزار شہباز شریف نے درخواست میں کہا ہے کہ 2018ء میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا، نیب ایسے کیس میں اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتا جس میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو۔

شہباز شریف نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ میں تواتر سے تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں، منی لانڈرنگ کے الزامات بھی بالکل بے بنیاد ہیں۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا، شہباز شریف نے درخواست میں کہا ہے کہ نیب انکوائری دستاویزی نوعیت کی ہے اور تمام دستاویزات پہلے سے ہی نیب کے پاس موجود ہیں۔ درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ نیب کے پاس زیر التواء انکوائری میں گرفتار کئے جانے کا خدشہ ہے، لہذا ضمانت منظور کی جائے۔