فرانسیسی حکومت کا مسلمانوں کیخلاف کریک ڈاون، پیرس کی مشہور مسجد کو بند کر دیا گیا

پیرس کے نواح میں واقع گرینڈ مسجد کو پرائمری سکول میں بچوں کو نبی آخرالزماں ﷺ کے خاکے دکھانے کے بعد قتل کیے جانے والے استاد کیخلاف نفرت انگیز بیانات شائع کرنے پر بند کیا گیا، مسجد کے فیس بک پیج پر واقعے سے قبل استاد کے خلاف نفرت انگیز پوسٹ لگائی گئی تھی

Shehryar Abbasi شہریار عباسی منگل اکتوبر 22:40

فرانسیسی حکومت کا مسلمانوں کیخلاف کریک ڈاون، پیرس کی مشہور مسجد کو ..
پیرس(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اکتوبر2020ء) پیرس کی انتظامیہ نے پینٹن گرینڈ مسجد کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پیرس کے علاقے پینٹن میں واقعہ جامع مسجد کو فرانسیسی حکومت نے عارضی طور پر بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پیرس کے نواح میں واقع گرینڈ مسجد کو پرائمری سکول میں بچوں کو نبی آخرالزماں ﷺ کے خاکے دکھانے کے بعد قتل کیے جانے والے استاد کیخلاف نفرت انگیز بیانات شائع کرنے پر بند کیا گیا ۔

مسجد کو بند کر کے باہر نوٹس لگا دیا گیا ہے ۔ بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق پینٹن میں واقع جامعہ مسجد کے فیس بک پیج پر سیمیوئل پیٹی نامی استاد کے قتل سے قبل اس کے خلاف ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

پیرس کی پولیس نے مسجد کے باہر مسجد کی عارضی بندش کا نوٹس لگا دیا ہے، نوٹس کے مطابق نفرت انگیز مواد شیئر کرنے کی وجہ سے مسجد کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا گیا ہے۔

پیرس کے سینی سینٹ ڈینس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مسجد کو دہشتگردی کی روک تھام کے لیے بند کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ فرانس کی ایک ریاست میں ایک مڈل اسکول کے استاد کو ایک نوجوان نے خنجر کا وار کر کے قتل کر دیا تھا جس سے متعلق کہا جا رہا تھا کہ اس نے اپنے شاگردوں کو نعوذ باللہ نبی آخر الزماں خاتم النبین ﷺ کے تصویری خاکے دکھائے تھے۔ جبکہ پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیاتھا۔

حملہ آور نے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے ایک اسکول کے قریب حملہ کر کے سکول ٹیچر کو قتل کیا۔ اسکول ٹیچر نے مبینہ طور پر اپنے طلبا کو پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھائے تھے۔ چاقو بردار حملہ آور کو قاتلانہ حملے کے بعد پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے حملہ آور کی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس قاتلانہ حملے کو 'اسلامی دہشت گردانہ حملہ' قرار دیا۔ فرانسیسی صدر میخکواں کا کہنا تھا کہ استاد کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ 'اظہار رائے کی آزادی کے متعلق پڑھاتے تھے۔'انہوں نے جائے وقوعہ کا وزٹ کیااور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے استاد محترم کا قتل مسلم انتہا پسندی کا نتیجہ ہے اور ہم اکٹھے رہیں گے اور دہشت گردانہ کارروائیوں سے ہمارے ارادے متزلزل نہیں ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس ایک لبرل ملک ہے یہاں ہر کسی کو آزادی ہے۔مسلمان یہاں اقلیت میں ہیں اور ادھر ادھر سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ فرانس میں یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب 2015 میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں دو جہادیوں کی سہولت کاری کے الزام میں 14 افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔