نوزائیدہ بچوں کو قطرے پلانے کو یقینی بنانے کے علاوہ انسداد پولیومہم کامیاب نہیں ہوسکے گی،کمشنر سکھر ڈویژن

بدھ اکتوبر 17:05

نوزائیدہ بچوں کو قطرے پلانے کو یقینی بنانے کے علاوہ انسداد پولیومہم ..
سکھر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اکتوبر2020ء) کمشنر سکھر ڈویژن شفیق احمد مہیسر نے پولیو پر مکمل کنٹرول کے لیے پیدائشی رجسٹریشن کی معلومات کو مائیکرو پلان کا حصہ بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ روٹین ایمونائزیشن کی بہتری اور نوزائیدہ بچوں کو قطرے پلانے کو یقینی بنانے کے علاوہ انسداد پولیومہم کامیاب نہیں ہوسکے گی ۔ ان ہدایات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر کے کانفرنس ہال میں 26 اکتوبرسے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے انتظامات، تربیت اور حکمت عملی سے متعلق ڈویژنل ٹاسک فورس کے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔

اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر اختر حسین قریشی، ڈپٹی کمشنرز احمد علی قریشی، رانا عدیل تصور، عثمان عبداللہ، ڈائریکٹر ہیلتھ سکھر آغا سمیع اللہ، ڈی ایچ اوزیونیسیف، ڈبلیو ایچ اواور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

کمشنر سکھر ڈویژن نے نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے ڈائریکٹر ہیلتھ سکھرکو دیے گئے ہدف کو مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ اسپتالوں اور دیگر زچہ خانوں سے نوزائیدہ بچوں کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے لیے ہیلتھ کئیر کمیشن سے بھی مدد لی جائے اس سلسلے میں متعلقہ افسران اور اداروں کا اجلاس طلب کیا جائے ۔

اجلاس میں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسزسکھر غا سمیع اللہ نے سکھر ، خیرپور اور گھوٹکی سے جاری سرکاری اعدادو شمار کے مطابق برتھ رجسٹریشن کی معلومات پیش کی جس پر کمشنر سکھر ڈویژن نے کہا کہ برتھ رجسٹریشن کی معلومات کو مائیکروپلان کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ بچوں کی معلومات ڈی ایچ او آفس میں یکجا کرکے محفوظ کیا جائے اور سوفٹ کاپی ٹاسک فورس اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ارسال کی جائے ۔

کمشنر سکھر ڈویژن سنے ہدایت کی اسسٹنٹ کمشنرز ویکسینیٹرز کی نگرانی کریں اور ہفتہ وار رپورٹ ڈی ایچ او اور ڈی سیز کو روانہ کریں ۔ انہوں نے ویکسینیٹرز کی تعیناتی یو سی کی آبادی کے تناسب سے کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ کمشنر سکھر ڈویژن شفیق احمد مہیسر نے کہا کہ روٹین ایمونائزیشن کو مزید فعال بنانے اور نوزائیدہ بچوں کو قطرے پالنے ے عمل کو یقینی بنانے کے علاوہ پولیو مہم کامیاب نہیں ہوسکے گی ۔ انہوں نے ہدایت ی گزشتہ مہم کی کوتاہیوں کو دور کیا جئاے اور رہ جانے والے بچوں اور غیر موجودگی جیسا بہانہ نہیں چلے گا جبکہ مارکر کی کمی اور ویکسین کی رسد میں تاخیر کی شکایات دور کی جائیں ۔

متعلقہ عنوان :