جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس بنانے والوں کا مستقبل کیا ہوگا، قانونی نقطہ نظر بتادیا گیا

آئینی طور پر ایسا نہیں کہ وہ اپنا عہدہ رکھنے سے نااہل ہوگئے ، لیکن عہدے کی جو عزت و تکریم ہوتی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے وہ اپنی صوابدید میں کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں ، معروف وکیل سلمان اکرم راجہ

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ اکتوبر 11:24

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس بنانے والوں کا مستقبل کیا ہوگا، ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اکتوبر2020ء) سپریم کورٹ کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف بھیجے گئے حکومتی ریفرنس کے فیصلے کے بعد صدر مملکت اور وزیرقانون کے مستعفی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے قانونی رائے سامنے آگئی ۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے معروف وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ یہ ایک صوابدیدی بات ہے اور اس کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان بھی کرسکتے ہیں کہ جس نا اہلی کا حوالہ سپریم کورٹ نے دیا اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس تیار کرنے والوں کو ان کے عہدوں پر رہنا چاہیئے کہ نہیں ، تاہم قانونی طور پر ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنا عہدہ رکھنے سے نااہل ہوگئے ، لیکن ظاہر ہے کہ عہدے کی ایک جو عزت و تکریم ہوتی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے وہ اپنی صوابدید میں کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

 

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی،صدر آئین کے مطابق صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے میں ناکام رہے ، تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، 224 صفحات پر مشتمل فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس عطاء بندیال نے جاری کیا، فیصلے کا آغاز قرآن پاک کی سورة النساء سے کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کا مختصر فیصلہ 19جون کو سنایا تھا ، سپریم کورٹ کے 10رکنی بنچ نے متفقہ طور پر ریفرنس کیخلاف فیصلہ دیا تھا ، عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اپیل پر سماعت کا فیصلہ سنایا تھا ،فیصلے میں لندن جائیدادوں کی انکوائری کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوایا گیا تھا ، سپریم کورٹ نے تفصیلی میں فیصلے میں کہا کہ جسٹس یحیٰ آفریدی نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی ، تفصیلی فیصلے میں عدالت نے صدارتی ریفرنس غیرآئینی قرار دے دیا۔