نیوکلیئر ڈیل سے متعلق امریکہ سے کوئی بات نہیں ہو گی،ایرانی سپریم لیڈر

ٹرمپ اور جوبائیڈن کے چہرے تبدیل ہونے سے امریکہ کی پالیسی تبدیل نہیں ہوتی

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ نومبر 06:23

نیوکلیئر ڈیل سے متعلق امریکہ سے کوئی بات نہیں ہو گی،ایرانی سپریم لیڈر
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 نومبر2020ء) امریکی الیکشن جہاں دنیا بھر کی توجہ کا مرکز اس لیے بھی بنے رہے کہ امریکہ سپر پاور ہے اور اس کا اثر ساری دنیا میں جاتا ہے مگر کچھ ممالک امریکہ کی پالیسی اور لیڈر شپ سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں لہٰذا ان کا کنسرن اور دلچسپی باقی سب ممالک سے زیادہ رہی ہے۔انہی ممالک میں سب سے پہلے نمبر پر شمار ایران کاہوتا ہے کہ جہاں امریکہ تیسری عالمی جنگ کا طبل بجانے کے لیے پر تول رہا ہے۔

حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے آخری مہینے میں جبکہ وہ الیکشن بھی ہار چکا تھا ایران کے خلاف محاذ کھڑا کر لیا تھا مگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت پر اسے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔تاہم امریکہ نے ایران پر 2015کے معاہدے کی خلاف ورزی کے الزام میں کافی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

(جاری ہے)

،جن سے متعلق امید یہی کی جا رہی ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ ایران کو تھوڑا ریلیف دے گی اور اسی حوالے سے گزشتہ روز جرمنی،فرانس اور برطانیہ نے سہ فریقی ملاقات میں فیصلہ کیا تھا کہ ایران کو ریلیف دلانے کے لیے وہ خود ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔

تاہم اب ایرانی سپریم لیڈر نے بیان دیاہے کہ وہ نیوکلیئر پراجیکٹ کے حوالے سے امریکہ سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔سپریم لیڈر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیڈر شپ تبدیل ہونے سے بنیادی پالیسی تبدیل نہیں ہوتی صرف چہرہ تبدیل ہو جاتا ہے۔اس لیے ہم نیوکلیئر پراجیکٹ سے متعلق نہ کوئی ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی امریکہ سے کسی قسم کی بات چیت اور مدد کے خواہاں ہیں۔امریکہ کی طرف سے لگائی گئی معاشی پابندیوں کی صورت میں ایران کا پہلے ہی بڑا نقصان ہو چکا ہے لہٰذا اب ہم مزید کوئی ڈیل نہیں چاہتے۔