وزیرِ اعظم کااحساس کفالت پروگرام کے تحت جولائی تا دسمبر کی ادائیگیوں کی شروعات کے سلسلے میں احساس ادائیگی سینٹر کا دورہ

وزیر اعظم عمران خان کو ادائیگی کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور بے ضابطگیوں سے بچا کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا

جمعہ نومبر 22:01

وزیرِ اعظم کااحساس کفالت پروگرام کے تحت جولائی تا دسمبر کی ادائیگیوں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 نومبر2020ء) وزیرِ اعظم عمران خان نے احساس کفالت پروگرام کے تحت جولائی تا دسمبر کی ادائیگیوں کی شروعات کے سلسلے میں احساس ادائیگی سینٹر کا دورہ کیا۔ وزیر اعظم کو ادائیگی کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور بے ضابطگیوں سے بچا کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو اسلام آباد میں احساس کفالت ادائیگی سینٹر کا دورہ کیا ، جس میں آج سے 70 لاکھ مستحقین کو ادائیگی شروع کردی گئی ہے۔

معاونِ خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم کو ادائیگیوں کے معیار کو بہتر بنانے اور سائبر حملوں کے خلاف تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ مزید وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اب کی بار خواتین کی بینکوں تک رسائی اور اے ٹی ایم سے رقم کی وصولی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔

(جاری ہے)

احساس ادائیگی نظام کو وصول کندگان کیلئے مفید اور آسان بنابے کیلئے بائیو میٹرک اے ٹی ایم سے رقوم کی وصولی کا آپشن پہلی بار متعارف کرایا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر ثانیہ نے وزیر اعظم کو بتایا کہ یہ نظام مستحق خواتین کو بدعنوان ایجنٹ اور پیسوں کی کٹوتی کرنے والے ٹولوں کی گرفت سے تحفظ مہیا کرے گا۔ احساس کفالت کی ادائیگی مختلف مراحل میں کی جائے گی۔ پہلے مرحلے کا آغاز آج سے ہو چکا ہے جس کے تحت 43 لاکھ مستحق خواتین کو ادائیگی شروع ہوگئی ہے۔ ہر وصول کنندہ کو 12 ہزار روپے دیئے جائیں گے یہ رقم جولائی 2020 سے دسمبر 2020 کے عرصہ کیلئے ہی. واضح رہے کہ یہ 6 ماہ کی مجموعی رقم کی ادائیگی کی جارہی ہے۔

وزیر اعظم پہلے ہی اس تعداد کو 70 لاکھ خواتین تک بڑھانے کی منظوری دے چکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ 70 لاکھ گھرانوں کو فائدہ ہوگا۔ اضافی مستحقین کو ادائیگی دسمبر 2020 کے بعد کی جائے گی اور رواں مالی سال میں یہ عمل مکمل ہوجائے گا. وزیر اعظم کو "احساس-ون-وومین-ون-بینک اکانٹ" کا ٹرائل رن بھی دکھایا گیا ، اگلے سال سے احساس کفالت سے مستفید ہونے والے افراد کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ چاہیں تو اپنی رقم نکلوا لیں یا ڈیجیٹل-والٹ میں محفوظ کر لیں۔

اس طرح پاکستان میں پہلی بار غریب ترین طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے پاس اپنی ادائیگی کو محفوظ کرنے کا اختیار ہوگا۔ ڈاکٹر ثانیہ نے کہا ، "ہمیں خواتین کی مالی خواندگی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان اقدامات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور صحیح معنوں میں با اختیار ہو جائیں جو اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ، "مالی شمولیت احساس کا مرکزی ہدف ہے اور پاکستان میں لاکھوں انتہائی پسماندہ خواتین کی صلاحیتوں کو ابھارنے کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

عوام کو محفوظ ، مفید اور سستی مالیاتی مصنوعات اور خدمات جیسے لین دین ، ادائیگی ، بچت ، قرض اور انشورنس تک رسائی فراہم کرکے حکومت انہیں معاشی تحفظ فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ خطِ غربت سے اوپر اٹھ کر اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے بہتر زندگی کے مواقع پیدا کریں۔ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت ، مشینوں کے ذریعے ریٹیل پوائنٹس پر ادائیگی بھی بایومیٹرک تصدیق کے بعد ہو سکے گی۔

شفافیت اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ، حال ہی میں متعدد جدید اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں جن سے وصول کنندگان اپنی رقوم کی منتقلی کی صحیح معنوں میں نگرانی کر سکتے ہیں. مزید یہ کہ ادائیگی کے نظام کو محفوظ اور کفالت وصول کنندگان کو بااختیار بنانے کیلئے ، شراکت دار بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریٹیلر ٹچ پوائنٹس پر بائیو میٹرک مشینوں کا معیار بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہو۔

کفالت رقوم کی شفاف ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے دیگر اہم اصلاحات میں ریٹیلیرز کی تربیت اور شکایات کے حل کے طریقہ بھی شامل ہیں۔ پاکستانی آبادی کا ڈیجیٹلی اور مالی طور پر کمزور بیشتر حصہ بے سہارا خواتین ہیں۔ احساس کفالت ملک بھر میں مستحق خواتین کی مالی اور ڈیجیٹل شمولیت کو یقینی بنا رہا ہے۔ لاکھوں خواتین کی زندگیوں کو بدل کر، احساس-ون-وومن-ون اکانٹ پسماندہ افراد کو نا صرف اپنی مالی مشکلات سے نکلنے میں مدد دے گا بلکہ انتہائی ضرورت کے وقت مالی پریشانی سے بچائے گی۔