روس یوکرین تنازعہ میں بورچٹ کی روایتی ڈش بھی شامل

منگل دسمبر 13:16

روس یوکرین تنازعہ میں بورچٹ کی روایتی ڈش بھی شامل
کیف (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 دسمبر2020ء) روس اور یوکرین کے مابین تنازعہ  میں یوکرائن کے شیف کانام  بھی سامنے آگیا ہے۔ 33 سالہ کلوپوٹینکو کا  یوکرین کے دارالحکومت  کیف کے وسط  میں ریستوران ہے جہاں وہ     چقندر اور گوبھی  سے تیار ہونے والی مشرقی یورپ  کی ایک روایتی ڈش بناتے ہیں جو یوکرین کے تاریخی ورثے سے  تعلق رکھتی ہے   ۔

اُن کا کہنا ہے کہ میں  اسے  بورچٹ کی جنگ قرار دینا پسند نہیں کرتا  لیکن حقیقت تو یہی ہے ۔شیف نے کہا کہ وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ  دنیا بھر کے ریستورانوں  میں   بورچٹ کو روسی سوپ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جبکہ امریکہ میں روسی سفارتخانہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پراپنے  ٹویٹ میں  بورچٹ کو روس کی  قومی ڈش قرار دیا  حالانکہ  ایسا نہیں ۔

(جاری ہے)

   انہوں نے بتایا کہ  یہی وجہ ہے کہ گزشتہ  ماہ  انہوں نے  یوکرین کی وزارت ثقافت سے رابطہ کیا  تاکہ بورچٹ کو یوکرین کے ثقافتی ورثے کا حصہ قرار  دینے کے لئے اقوام متحدہ کے  ثقافتی ادارے یونیسکو کو  باضابطہ  درخواست پیش کی جا سکے ۔وزارت ثقافت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے اور  وہ   مارچ تک یونیسکو  کودرخواست  ارسال کردے گی۔واضح رہے کہ یوکرین  کےباشندوں کا موقف ہے کہ1548 میں  ایک یورپی سیاح  نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا کہ   بورچٹ کے سوپ کو اس نے  پہلی بار   کیف کے قریب ایک بازار میں چکھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈش  یوکرین کے آباد کاروں کے ساتھ کافی عرصے بعد روس پہنچی۔  یوکرین کے ایک  تاریخ دان اولیانا شیچربن نے بھی بورچٹ پر روس کے دعوے کو  مضحکہ خیز قرار دیاہے۔