بحرین نے اسرائیل کے فلسطینی مقبوضہ علاقے سے درآمدات کرنا شروع کر دی

بحرین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی معاہدے پر عملدرآمد شروع

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعہ دسمبر 06:48

بحرین نے اسرائیل کے فلسطینی مقبوضہ علاقے سے درآمدات کرنا شروع کر دی
تل ابیب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 دسمبر2020ء) جن تین مسلم ممالک نے اب تک اسرائیل کو تسلیم کیا ہے ان میں دبئی بحرین اور سوڈان شامل ہے۔ان ممالک نے تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی معاہدے بھی کیے ہیں۔ان معاہدوںکی وجہ سے ہی گزشتہ دنوں اسرائیل کی پرواز دبئی لینڈ کر چکی ہے جبکہ اب بحرین نے اسرائیل سے درآمد کرنا شروع کر دی ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ درآمد وہاں سے کی جا رہی ہے جو کہ معصوم فلسطینیوں کا علاقہ ہے اور وہاں پر اسرائیل نے زبردستی قبضہ کررکھا ہے۔

بحرین نے درآمدگی کے معاہدے میں اسرائیل کے ساتھ یہ بات ہی نہیں کی کہ وہ کن شہروں اور علاقے سے درآمد کرے گا بلکہ یہ اوپن معاہدہ ہے اور کسی بھی شہر سے اشیاءدرآمد کرنے سے متعلق رکاوٹ نہیں کی گئی۔حالانکہ اسرائیل کا اکثر سے زیادہ علاقہ غیر قانونی تعمیرات پر مبنی ہے جو کہ معصوم فلسطینیوں کا علاقہ ہے۔

(جاری ہے)

دنیا کی کئی سپر پاور بھی اسرائیل کے ان علاقوں کو متنازع تسلیم کرتے اور غیر قانونی تعمیرات گردانتے ہیں جبکہ بحرین نے اپنے معاہدے میں ایسی کوئی بات ہی نہیں کی کہ کس علاقے سے اشیا آ سکتی ہیں اور کہاں سے نہیں۔

بحرین کے وزیر تجارت و سیاحت زید بن الزیانی نے کہاہے کہ کہ بحرین کے لیے اسرائیلی پراڈکٹس محض اسرائیلی ہی ہیں چاہے وہ جس بھی شہر سے ہوں ہم انہیں اسی طرح ہی سمجھیں گے۔انہوںنے دورہ اسرائیل کے موقعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لیبل یا اصل سے کوئی فرق نہیں پڑتا جو چیز اسرائیل سے آ رہی ہے وہ اسرائیلی ہی ہے۔حالانکہ یورپی یونین کے قانون کے مطابق جب اسرائیلی پراڈکٹ یورپی ممالک میں جائیں گی تو اس کے اوپر بھی ٹیگ لگانا ضروری ہے کہ یہ اسرائیل کے کس علاقے کی پراڈکٹ ہے اور کیا یہ مقبوضہ علاقے سے ہے کہ نہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ مہینے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کی طرف سے آنے والی اشیا پر غیر قانونی علاقے اور اسرائیلی لینڈ سے درآمد شدہ کا لیبل لگانے کی پابندی بھی ہٹوا دی تھی۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ مسلم ممالک نے اسرائیلی سے پراڈکٹ منگوانے کے بائیکاٹ کا کہا تھا تاکہ ان کی معیشت اتنی مضبوط نہ ہو سکے اور اب یہی مسلم ممالک ان کی معیشت مضبوط کرنے کے لیے وہاں سے اشیا درآمد کرنے پر لگ گئے ہیں۔