پی آئی اے قابل اعتماد اور محفوظ ائیر لائن قرار دے دی گئی

پی آئی اے کی بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابی، آیاٹا آپریشنل سیفٹی آڈٹ تنظیم (IOSA) نے پی آئی اے کی آڈٹ کے نتائج کو کامیابی کے ساتھ حل کر لیا، قومی ایئر لائن قابل اعتماد اور محفوظ ائیر لائن قرار

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری بدھ اپریل 18:36

پی آئی اے قابل اعتماد اور محفوظ ائیر لائن قرار دے دی گئی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، تازہ ترین اخبار، 7 اپریل 2021) پی آئی اے کی بین الاقوامی سطح پر اہم کامیابی، ائیر لائن سیفٹی کے بین الاقوامی ادارے نے قومی ایئر لائن کو قابل اعتماد اور محفوظ ائیر لائن قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی سطح پر پی آئی اے کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ایئر لائن سیفی کے بین الاقوامی ادارےآیاٹا آپریشنل سیفٹی آڈٹ نے پی آئی اے کی رجسٹریشن کی تجدید کر دی۔

ذرائع کے مطابق آیاٹا آپریشنل سیفٹی آڈٹ تنظیم (IOSA) نے پی آئی اے کی آڈٹ کے نتائج کو کامیابی کے ساتھ حل کر لیا ہے، جس کے بعد پی آئی اے کی رجسٹریشن مزید 2 سال تک کار آمد رہے گی۔اس اہم حفاظتی سند کی تجدید کے لیے ہر 2 سال بعد بیرونی آڈٹ ہوتا ہے، یہ سیفٹی آڈٹ ایاٹا کی جانب سے کیا جاتا ہے اور پی آئی اے کا شمار کامیابی سے ایاٹا کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے سند یافتہ ایئر لائنز میں ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک نے ایئر لائن کے کارکنان کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا IOSA رجسٹریشن کا تسلسل اور کامیابی کے ساتھ حصول حفاظتی امور کی ترجیح کی ایک مثال ہے۔انھوں نے کہا پی آئی اے حفاظتی امور پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتی اور پہلی ترجیح مسافروں کو محفوظ سفر کی فراہمی ہے، ادارے کے کارکنان کی ادارے کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی مثالی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں در پیش چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے پی آئی اے نے 2 آڈٹ کروائے، جن میں سے پہلے کا دائرہ کار محدود تھا، جب کہ دوسرا تفصیلی آڈٹ آپریشنز، فلائٹ سروسز (کیبن آپریشنز)، کوالٹی اشورنس، سیفٹی منیجمنٹ، سیکیورٹی سروسز، انجینئرنگ، گراؤنڈ ہینڈلنگ، فلائٹ ڈسپیچ، اور کارگو آپریشنز پر محیط ایک مکمل اسکوپ آڈٹ تھا۔

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے اس اہم کامیابی پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ موجودہ سال کے دوران پاکستان میں ہوا بازی کے شعبے میں مزید بہتری اور ترقی ہوگی۔واضح رہے کہ پاکستان ائیر لائن کو جعلی لائسنس سکینڈل کی وجہ سے یورپ میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وفاقی وزیر کی جانب سے پی آئی اے کے پائلٹس پر سوال اُٹھایا گیا تھا،جس کے بعد پاکستان ائیر لائن کے پائلٹس کی قابلیت کے حوالے سے سوالات کھڑے ہو گئے تھے۔