سرگودھا میں پولیس کے مبینہ تشدد سے 14 سالہ لڑکا جاںبحق‘بھائی نے مقدمے کی درخواست دائر کردی

کا آئی جی پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے غیر قانونی حراست اور پولیس تشدد کی رپورٹ طلب کر لی‘تاحال مقدمہ درج نہیں ہو سکا

اتوار جون 13:45

سرگودھا میں پولیس کے مبینہ تشدد سے 14 سالہ لڑکا جاںبحق‘بھائی نے مقدمے ..
سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 جون2021ء) سرگودھا میں پولیس کے مبینہ تشدد سے 14 سالہ لڑکے کے جاںبحق ہو جانے پر مقتول کے بھائی نے پولیس اور مخالفین کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کر دی۔جس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا کے لئے ہر فارم پر آواز اٹھائے گا۔ یاد رہے کہ آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے غیر قانونی حراست اور تشدد کی رپورٹ طلب کر رکھی ہے جبکہ متعلقہ پولیس نے احتجاج پر مظاہرین کو فراہمی انصاف کی یقین دہانی تو کروائی لیکن تاحال مقدمہ درج نہیں ہوا۔

زرائع کے مطابق سرگودھا کی تحصیل سلانوالی میں اسلام نگر کے محنت کش محمد سلیم کے 14 سالہ بیٹے محمد عاصم کو مخالفین کے ایماء پر پولیس نے گرفتار کر کے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور نیم مردہ حالت میں ورثاء کے حوالے کر دیا جو سرگودھا کے نجی ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں دم توڑ گیا تو لواحقین نے ہسپتال کے سامنے سڑک پر مقتول کی نعش رکھ کر واقعہ کو پولیس گردی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا جن کا کہنا تھا کہ بچوں کی لڑائی پر مخالفین چک 142 شمالی کے امجد کھچی وغیرہ کی ایمائ پر پولیس نے کپڑے سلائی کرنے والے 14 سالہ لڑکے محمد عاصم کو اٹھا کر تھانہ میں حبس بجا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایاجس کے باعث لڑکے کے پٹھے مکمل طور پر ڈیمج ہوگئے اور مفلوج ہو کر دم توڑ گیا۔

(جاری ہے)

جس پر پولیس نے مظاہرین سے مزاکرات کر کے متوفی کا پوسٹمارٹم کروا کر کاروائی کی یقین دہانی کروائی جبکہ واقعہ کا آئی جی پولیس نے نوٹس لیتے ہوئے غیر قانونی حراست اور پولیس تشدد کی رپورٹ طلب کر لی جس پر تاحال کاروائی نہ ہونے پر مقتول کے بھائی عابد حسین نے پولیس حکام کو مخالفین چک 142 شمالی کیامجد کھچی، سلانوالی کے محمد عثمان پولیس اے ایس آئی اور اہلکار اسد کے تشدد کر کے قتل کے الزام میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی۔